چینی فوج کی دراندازی ،بی جے پی ایم پی کا دعویٰ۔ آرمی کی تردید

   

اروناچل پردیش کے دورافتادہ ضلع میں چینی آرمی گھس آئی،لکڑی کا عارضی پُل بنایا گیا :رکن پارلیمنٹ تپیر گاؤ

ایٹانگر/ نئی دہلی ۔4ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اروناچل پردیش کے ایک بی جے پی ایم پی نے چہارشنبہ کو دعویٰ کیا کہ چینی آرمی نے ریاست کے دور افتادہ ضلع انجاؤ میں دراندازی کی اور گذشتہ ماہ ایک نہر پر لکڑی کا عارضی پل بنایا ، لیکن ہندوستانی فوج نے کہا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیاہے ۔ رکن پارلیمان تپیر گاؤ نے کہا کہ یہ پُل چھگلاگام سرکل میں کیومرو نالا پر بنایا گیا ہے اور بعض مقامی نوجوانوں نے اسے گذشتہ روز ہی دیکھا ۔ نئی دہلی میں ربط پیدا کرنے پر آرمی کے ترجمان نے کہا کہ چینی ملٹری کی طرف سے ایسی کوئی دراندازی نہیں ہوئی ۔ حقیقی خط قبضہ کے پاس کئی علاقوں میں حدبندی کے تعلق سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑی خطہ گھنا اور ہرا بھرا ہے اور تمام تر نقل و حرکت نالوں اور نہروں کے پاس پیدل کرنی پڑتی ہے ۔ مانسون کے دوران جب کبھی نالے ابلنے لگتے ہیں ، طلایہ گرد پارٹیاں اپنی نقل و حرکت کیلئے پُل بنایا کرتی ہیں ۔ چونکہ یہ علاقہ مختلف دعوؤں سے متعلق ہیں اس لئے دونوں طرف کے فوجی دستے اس علاقہ میں پٹرولنگ کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں شہری، شکاریاں اور جڑی بوٹیاں جمع کرنے والے بھی گرما کے مہینوں کے دوران اکثر آیا جایا کرتے ہیں ۔ فوجی عہدیدار نے دوہرایا کہ چینی سپاہیوں یا شہریوں کی اس علاقہ میں کوئی مستقل موجودگی نہیں ہے اور ہندوستانی دستے وہاں باضابطگی نگرانی کررہے ہیں ۔ قبل ازیں بی جے پی ایم پی تپیر نے کہا کہ وہ علاقہ جہاں چینی دراندازی ہوئی ، چھگلاگام کے تقریباً 25کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے اور ہندوستانی علاقہ میں ہی آتا ہے ۔ انہوں نے جرنلسٹوں کو بتایا کہ اس ریاست کے نمائندہ کی حیثیت سے وہ مرکز سے درخواست کرتے ہیں کہ ارونا چل پردیش میں ہند۔ چین سرحد کے پاس انفراسٹرکچر کو فروغ دیا جائے ، جیسا کہ انجاؤ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہایولیانگ اور چھگلاگام کے درمیان سڑک کی تعمیر کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کو روکنے کیلئے یہ اقدام ضروری ہے ۔ ہایو لیانگ اور چھگلاگام کے درمیان روڈ کی حالت کافی ناقص ہے اور عملاً اُس جگہ کے آگے کوئی سڑک نہیں ہے ۔ ایم پی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گذشتہ سال اکٹوبر میں انڈین آرمی پٹرول پارٹی کو اسی علاقہ میں چینی دستوں کا سامنا ہوا تھا ۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں اور ملٹری میکانزم بھی موجود ہیں جو سرحدی علاقوں سے متعلق تمام مسائل کی یکسوئی کرسکتے ہیں ۔ دونوں فریق متفق ہیں کہ انڈیا ۔ چائنا سرحدی علاقوں کے تمام حصوں میں و بھائی چارہ برقرار رکھنا ضروری ہے جو مجموعی باہمی تعلقات کے پُرسکون فروغ کی پیشگی شرط ہے ۔ہندوستان اور چین کی لگ بھگ 4ہزار کلومیٹر طویل سرحدی ہے جس کی واضح طور پر حدبندی نہیں ہے، جس کی وجہ سے دونوں طرف سے ایک دوسرے کے علاقہ میں دراندازیاں ہوجاتی ہیں ۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ بتاتا ہے ۔