ظہیرآباد میں وال پوسٹر کی رسم اجرائی سے ڈی ایس پی سدہ نائیک کا خطاب
کوہیر۔ 11؍جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ ہر عید و تہوار خوشیوں کی سوغات لے کر آتی ہے۔ اگرچہ اس دوران کوئی ناگہانی واقعات پیش آجائیں تو سارے ماحول پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سدہ نائیک ڈی ایس پی ظہیرآباد ڈیویژن اور سرکل انسپکٹر پولیس شیوالنگم نے خصوصی طور پر شائع کئے گئے وال پیپر پوسٹر کی رسم اجرائی کے موقع پر کیا۔ انھوں نے کہا کہ سنکرانتی کے تہوار کے دوران پتنگ بازی کے مظاہرے ہوتے ہیں جس میں چینی مانجھا کے ذریعہ پتنگ بازی کی جاتی ہے۔ وہ ایک خطرناک مانجھا ہوتا ہے جس کی وجہ سے معصوم لوگوں کو جانیں اس کی زد میں آکر چلی گئی ہیں۔ اس وجہ سے حکومت تلنگانہ اس کے استعمال کو ممنوعہ قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ اس لئے چینی مانجھا فروخت اور استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ ممنوعہ اشیاء نائیلان کا دھاگہ، مصنوعی یا شیشے کی کوٹنگ کسی بھی قسم کے ذخیرہ اندازی یا استعمال مکمل طور پر ممنوعہ ہے۔ پتنگ اُڑانے کے لئے صرف عام سوتی دھاگے کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ کیونکہ چینی مانجھا بہت تیز ہوتا ہے، اس لئے سائیکل موٹر یا پیدل چلنے والے لوگ اور آسمان پر اُڑنے والے پرندے نے اس کی زد میں آکر ان کی جانوں کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ چینی مانجھا برقی کرنٹ کا کام کرتا ہے۔ اس میں بجلی کے جھٹکے لگنے کا خطرہ لگا رہتا ہے۔ اس کی زد میں آج کوہیر منڈل مستقر میں بھی سب انسپکٹر پولیس ٹی نریش نے بھی اچانک پتنگ کی دکانوں پر دھاوا کرتے ہوئے مانجھے کی جانچ پڑتال کی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے دکانداروں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی مانجھا فروخت کرنے والوں پر سخت قانونی کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ہے۔
