لاؤس: ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی نے لاوس میں جمعرات کے روز ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماوں نے اپنے سرحدی مسائل کو جلد از جلد حل کرنے پر اتفاق کیا۔ہندوستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے لاؤس میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے گروپ آسیان کے سربراہی اجلاس کے موقع پر الگ سے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی۔اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان صرف تین ہفتے پہلے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔ہندوستانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ہم نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) اور ماضی کے معاہدوں کے مکمل احترام کو یقینی بنانے اور اس سلسلے میں منقطع ہونے والے عمل کی تکمیل کیلئے رہنمائی فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ امید ہیکہ چین اور ہندوستان ایک ہی سمت میں کام کریں گے اور اس بات کی کھوج کریں گے کہ پڑوسی ممالک کیسے مل سکتے ہیں۔چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعرات کو دیر گئے جاری کردہ بیان کے مطابق، وانگ نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ چین اور ہندوستان کے تعلقات دو طرفہ دائرہ کار سے باہر ایک اہم اثر رکھتے ہیں۔ وانگ نے ہندوستانی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے ساتھ بات چیت کے بارے میں کہاکہ چین۔ہندوستان تعلقات کو دوبارہ پٹری پر لانا دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے۔” اس سے قبل قازقستان میں ہونے والی ملاقات میں وانگ نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو دوسرے شعبوں میں معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر کے سرحدی علاقوں کی صورت حال سے نمٹنا چاہیے۔جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں پڑوسی ممالک ہندوستان اور چین کے درمیان ہمالیائی سلسلے میں ایک طویل سرحد ہے، جس کے بیشتر حصوں پر سرحد کی واضح نشاندہی نہیں ہے اور جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان ملکیت کے حوالے سے اکثر تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔