چین اور سوئٹزرلینڈ تجارتی تعلقات مستحکم کرنے پر متفق

   

Ferty9 Clinic

دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ پر پہلی بار 2013ء میں دستخط ہوئے تھے

برن: سوئٹزرلینڈ کے صدر اور چینی وزیر اعظم نے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے سوئس دارالحکومت برن میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب عالمی رہنما ڈاووس کے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں جمع ہو رہے ہیں۔سوئٹزر لینڈ کی حکومت کا کہنا ہیکہ چین اور سوئٹزرلینڈ نے ایک موجودہ آزاد تجارتی معاہدے کو تقویت دینے اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کیلئے پیر کو ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے۔دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر پہلی بار 2013 میں دستخط کیے گئے تھے اور اس وقت بیجنگ اور براعظم یورپ کی معیشت کے درمیان یہ اپنی نوعیت کا پہلا آزاد تجارتی معاہدہ تھا۔چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے بارے میں خدشات پیدا ہونے کی وجہ سے، معاہدہ کو مضبوط بنانے کی کوششیں، رک سی گئی تھیں۔سوئس صدر وائلا ایمہرڈ نے اس حوالے سے سوشل میڈیا ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ چینی وزیر اعظم لی کیانگ کے ساتھ ان کی ملاقات میں تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ہی ترقیاتی تعاون، ثالثی اور انسانی حقوق پر بھی بات چیت ہوئی۔اس سال سوئٹزر لینڈ اور چینی وزارت خارجہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے اور اس بات چیت میں انسانی حقوق کو بھی شامل کیا جائے گا۔سوئٹزرلینڈ اور چین کے درمیان ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آزاد تجارتی معاہدہ کو باضابطہ شکل دینے کیلئے ایک مشترکہ اسٹڈی کے عمل کو حتمی شکل دی گئی ہے۔سوئس حکومت کا کہنا کہا کہ یہ ممکنہ مذاکرات کے آغاز کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا نے خبر دی ہیکہ آزاد تجارتی معاہدہ کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ دونوں ممالک نے سفر کیلئے ویزا کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ چین نے سوئس شہریوں کیلئے ویزا فری داخلہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سوئس حکومت چینی شہریوں کے ساتھ ساتھ سوئٹزرلینڈ میں سرمایہ کاری کرنے والے چینی کاروباری اداروں کیلئے بھی مزید ویزا سہولیات فراہم کرے گی۔ 2017 میں ژی کے دورہ کے بعد سے لی کیانگ سوئٹزرلینڈ کا دورہ کرنے والے سب سے سینئر چینی اہلکار ہیں۔ وہ چینی ژی کے قریبی معاون ہیں اور انہیں گزشتہ برس مارچ میں اس عہدہ پر تعینات کیا گیا تھا۔انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی تجارت اور سرمایہ کاری کو دینے کا وعدہ کیا، تاکہ ایک طاقتور، تاہم کافی حد تک کمزور معیشت کے بارے میں مزید جوش و خروش پیدا کیا جا سکے۔چین امریکہ اور یورپی یونین کے بعد سوئٹزرلینڈ کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سوئٹزر لینڈ اور چینی رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے، جب عالمی رہنما اور اعلیٰ حکام سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کیلئے جمع رہے ہیں۔