ہندوستانی سپاہیوں کو سرحد پر پٹرولنگ سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ، چین اور پاکستان کے ناجائز قبضوں کا بھی تذکرہ ، راجیہ سبھا میں راجناتھ سنگھ کا بیان
نئی دہلی: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ہند ۔ چین سرحدی تنازعہ کے بارے میں آج اپنے بیان میں نپے تلے مگر جارحانہ انداز میں کہاکہ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے سپاہیوں کو طلایہ گردی سے روک نہیں سکتی۔ سابق وزیر دفاع اور کانگریس لیڈر اے کے انٹونی نے سوال کیا تھا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان سفارتی اور ملٹری سطح پر مذاکرات کے اختتام کے بعد آیا ہمارے فوجی پٹرولنگ کی اپنی ڈیوٹی پر واپس ہوپائیں گے۔ اِس پر جواب میں راجناتھ نے کہاکہ ہندوستانی سپاہیوں کی پٹرولنگ کا معمول روایتی عمل ہے اور اِس کی اچھی طرح صراحت موجود ہے۔ سینئر کانگریس قائدین بشمول غلام نبی آزاد، آنند شرما نے وزیر دفاع سے اِس مسئلہ پر وضاحتیں طلب کئے کہ آیا ہندوستان اپریل 2020 ء کے موقف کی بحالی کے لئے سفارتی اور ملٹری ذرائع سے چین کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے؟ راجناتھ نے ہند۔ چین سرحد پر حالات کے بارے میں راجیہ سبھا کو آج یہ جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ چین نے لداخ میں تقریباً 38 ہزار مربع کلومیٹر زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ راجناتھ نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ رشتے بڑھائے جا سکتے ہیں اور سرحدی تنازعہ پر بھی بیک وقت بات چیت ہو سکتی ہے لیکن سرحد پر کشیدگی کا اثر باہمی رشتوں پر پڑے گا۔ راجناتھ نے کہا کہ چین کی سرگرمیوں سے واضح ہے کہ اس کے قول و فعل میں فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بات چیت کے باوجود چین کی طرف سے 29 اور 30 اگست کو اشتعال انگیز کارروائی کی گئی۔ وزیر دفاع نے چین۔ پاکستان سرحدی معاہدہ کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت پاکستان نے ناجائز طور پر 5,180 مربع کلومیٹر کی ہندستانی زمین چین کو دے دی۔ اُنھوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش میں 90 ہزار مربع کلومیٹر زمین پر بھی دعویٰ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر کشیدگی پہلے بھی ہوئی ہے اور حقیقی خط قبضہ (ایل اے سی) پر دونوں ملکوں کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ایل اے سی کو نہیں مانتا، ہم ہر صورت حال کیلئے تیار ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ مئی میں چین نے ہندستانی فوجیوں کی پٹرولنگ روکی۔ ہندستانی فوجیوں نے 15 جون کو گلوان میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کو سخت جواب دیا۔ جوانوں نے ان سبھی واقعات کے دوران جہاں صبر وتحمل دکھانا تھا، وہاں تحمل دکھایا اور جہاں شجاعت کی ضرورت تھی وہاں شجاعت دکھائی۔