واشنگٹن : ایک امریکی سفیر کے مطابق چین بہت ہی جلد زیر آب ڈرون اور نیوکلیئر توانائی سے چلنے والے میزائلوں جیسے پر اسرار ایٹمی ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔ نیوکلیئر ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر مہارت رکھنے والے ایک امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ چین کی ایٹمی ہتھیاروں کے جدید پروگرام پر نظر ہے جس سے موجودہ، ”عالمی اسٹریٹیجک استحکام درہم برہم ہو سکتا ہے۔جنیوا میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق امریکی سفیر رابرٹ وؤڈ کا کہنا تھا کہ زیر آب ڈرون اور نیوکلیئر توانائی سے مار کرنے والے میزائل جیسے ’’پراسرار نیوکلیئر ہتھیار‘‘ بہت ہی جلد چینی فوج کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیٹیلائیٹ سے حاصل تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ چین شمال مغربی شہر یومین کے پاس ایک صحرا میں میزائلوں کو محفوظ طریقے سے رکھنے کے لیے 119 سیلوس (زیر زمین گودام یا گڈھے) تعمیر کر رہا ہے۔ ان کا مزید تھا کہ یہ زیر زمین گودام بالکل اسی نوعیت کے ہیں جس میں اس نے موجودہ ایٹمی ہتھیار محفوظ کر رکھے ہیں اور یہ کافی تشویش ناک بات ہے۔چین جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے نیوکلیئر ہتھیار اپ گریڈ کرنے میں مصروف ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر یہ ہتھیار امریکی اہداف کو بھی نشانہ بنا سکیں۔ گزشتہ برس پنٹاگان نے جو اندازہ لگایا تھا اس کے مطابق چین کے پاس پہلے سے ہی 200 سے زیادہ جوہری ہتھیار موجود ہیں اور آئندہ ایک عشرے کے دوران وہ اس تعداد کو دوگنا کرنا چاہتا ہے۔
