چین میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا

,

   

عدالت کے فیصلہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ

بیجنگ : چین میں ایک 78 سالہ امریکی شہری کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق پیر کو امریکی شہری جون شنگ واں لیانگ کی سزا کے بارے میں ایک چینی عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ جاسوسی کے مرتکب پائے گئے ہیں اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔چین کے مشرقی شہر سوڑہوو کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی شخص کے سیاسی حقوق بھی تاحیات معطل رہیں گے۔سوڑہوو کے حکام نے اپریل 2021 میں 78 سالہ اس شخص کے خلاف قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری کارروائی کی۔بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جون شنگ واں لیانگ کو کب گرفتار کیا گیا تھا۔لیانگ پر لگائے گئے الزامات کی مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔بیجنگ میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ ایک امریکی شہری کو سوڑہوو میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکی وزرات خارجہ کی اولین ترجیح اپنے سمندر پار شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائیویسی سے جڑی وجوہات کہ بناء پر ہم مزید کوئی تبصر نہیں کریں گے۔امریکی شہری کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔انسانی حقوق کی پامالی، تائیوان کی خودمختاری اور تجارت سے متعلق معاملات پر پہلے ہی چین اور امریکہ میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔گزشتہ ماہ اپریل میں چین نے جاسوسی مخالف قانون میں ایک ترمیم کی منظوری دی تھی جس سے جاسوسی کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے اس قانون کا دائرہ کار بھی وسیع ہو گیا ہے اور قومی سلامتی سے متعلق کسی بھی ڈیٹا کی منتقلی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان مختلف عالمی امور پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔ کورونا وباء سے لیکر یوکرین اور روس کے درمیان جنگ تک دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی فورمس پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بیچ امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں چین میں عمر قید کی سزا کے فیصلہ سے امریکی انتظامیہ میں برہمی پائی جا تی ہے ۔ اس کا اب کوئی سفارتی حل تلاش کیا جاتا ہے یا اختلافات میں مزید شدت آئے گی یہ دیکھنا ہوگا ۔