چین میں ایغور مسلم اقلیت پر مظالم ، فرانس کو تشویش

,

   

دبئی : چین کو بعض مسلم اقلیتی گروپوں کو ایذا پہونچانے پر بڑھتی تنقید کا سامنا ہے ۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ مسلم دنیا کے درجنوں ممالک کے مقابل پہل کرتے ہوئے فرانس نے چینی صوبہ سنکیانگ میں واقع قید خانوں کو بند کردینے پر زور دیا ہے ۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومت فرانس ایغور مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا برتاؤ کے بارے میں چین پر دباؤ ڈالتی رہے گی اور سنکیانگ میں حراستی مراکز کو بند کرنے پر زور دے گی ۔ چین میں مسلم اقلیتی گروپوں پر مظالم کوئی حالیہ عرصہ کی بات نہیں۔ یہ کئی دہوں پرانا مسئلہ ہے ۔ سنکیانگ میں ایغور مسلمان ترک زبان بولنے والی سب سے بڑی دیسی برادری ہے ، جس کے بعد قزاق باشندوں کا نمبر آتا ہے ۔ ترجمان وزارت خارجہ اگنس وان ڈرمل نے گذشتہ روز پریس بریفکنگ میں بتایا کہ فرانسیسی حکومت نے سنکیانگ کے قید خانوں کو جلد از جلد بند کرنے پر زور دیا اور آزاد مبصرین کا بین الاقوامی مشن اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشل باشلے کی نگرانی میں بھیجنے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ حقیقت حال کی تحقیقات کرتے ہوئے حقائق کی اصل تصویر رپورٹ کی شکل میں پیش کرے ۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اور اس کے یوروپی یونین کے پارٹنرس نے اس ناقابل صورتحال کی بار بار مذمت کی ہے ۔ اس ضمن میں فرانس ناصرف چینی عہدیداروں کے ساتھ اپنے باہمی روابط بلکہ اقوام متحدہ کے اندرون مختلف پلیٹ فارمس پر بھی بدستور سرگرم رہے گا ۔ یو این کے اداروں میں ہیومن رائٹس کونسل نمایاں ہے جس کو سنکیانگ کی صورتحال سے واقف کروایا جائے گا ۔ فرانسیسی وزارت کی ترجمان نے مزید کہا کہ پیرس حکومت رواں سال کے ختم تک انسانی حقوق کے بارے میں یوروپی یونین ۔ چین مذاکرات سے قبل اپنے مطالبہ کی تائید جاری رکھے گی ۔ فرانسیسی صدر ایمانیول میکرن نے اس ہفتہ کے اوائل یو این جنرل اسمبلی سے اپنے ورچول خطاب میں پیرس سے موقف کا اعادہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کوئی مغربی نظریہ نہیں کہ اس کی کوئی ملک مداخلت جان کر مخالفت کرے ۔ ہماری آرگنائزیشن کے مسلمہ اصول ہیں جو اقوام متحدہ کے رکن مملکتوں نے تسلیم کر رکھے ہیں اور باقاعدہ دستخط کیے ہیں ۔ ایک یو این کمیٹی نے اگست 2018 میں ایک شکایت کی سماعت کی تھی کہ مغربی سنکیانگ خطہ میں تقریبا ایک ملین ( 10 لاکھ ) ایغور اور دیگر مسلم گروپوں کو محروس رکھا گیا ہے اور ان کی چینی حکومت کے نظریات کے مطابق جبراً ذہن سازی کی جارہی ہے ۔