چین میں 17 فیصد کم بچوں کی پیدائش

   

بیجنگ ۔ 19 جنوری (ایجنسیز) چین میں ون چائلڈ پالیسی کے خاتمے کے ایک دہائی بعد بھی آبادی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ 2025ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چین کی مجموعی آبادی 1.404 ارب ریکارڈ کی گئی، جو اس سے ایک سال قبل کے مقابلے میں 30 لاکھ کم ہے۔ یہ مسلسل چوتھا سال ہے جب چین کی آبادی میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ سال 2025ء کے دوران ملک بھر میں 79 لاکھ بچے پیدا ہوئے، جو 2024ء کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہیں۔ ماہرین کے مطابق چین میں شرحِ پیدائش اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایک خاتون کے ہاں بچوں کی اوسط تعداد کم ہو کر 1.0 رہ گئی ہے، جبکہ آبادی کو برقرار رکھنے کیلئے یہ شرح 2.1 ہونی چاہیے۔ چینی خاندانوں کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی، بچوں کی پرورش کے بھاری اخراجات اور سخت سماجی مسابقت کی وجہ سے وہ مزید بچے پیدا کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ 2021ء￿ میں تین بچوں کی اجازت دینے کے بعد، اب فی بچہ 3,600 یوآن (تقریباً 500 ڈالر) کی نقد امداد دی جا رہی ہے۔ ایک غیر معمولی فیصلے میں، حکومت نے 2025 سے کنڈومز پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کرتے ہوئے ان پر 13 فیصد ٹیکس عائد کر دیا تھا تاکہ مانع حمل اشیاء کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، رشتہ کرانے والی ایجنسیوں اور ڈے کیئر سینٹرز کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی۔ واضح رہے کہ 2023 میں بھارت، چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا تھا۔