چین کا اب نیپال کے علاقہ پر قبضہ

   

نیپال ، تبت سرحد کے قریب 11 پختہ عمارتیں تعمیر
کھٹمنڈو: ہندوستان کے بعد چین نیپال سے متصل تازہ سرحدیںتنازعہ میں ملوث ہورہا ہے۔ ضلع ہملا کے قریب نیپال، تبت سرحد سے متصل علاقہ میں چین کی کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب چین نے اپنی جانب نیپالی علاقہ میں 11 پختہ عمارتیں تعمیر کی ہیں۔ لپچا علاقہ کے عوام نے چین کی سرگرمیوں سے متعلق ضلع حکام کو اطلاع دی۔ یہ علاقہ جس پر نیپال کا دعویٰ ہے، ضلع ہیڈکوارٹر سے دور ہے وہاں تک پہنچنا مشکل ہے لیکن چین کی جانب سے اس علاقہ تک پہنچنا آسان ہے۔ اس علاقہ کو سڑک کی رسائی سے حمل و نقل میں آسانی ہورہی ہے۔ حکام نے ابھی تک اپنی رپورٹ نیپال کی وزارت داخلہ کو پیش نہیں کیا ہے البتہ ایک عہدیدار نے کہا کہ ان کی ٹیم نے متنازعہ علاقہ کا معائنہ کیا ہے۔ مقامی افراد سے بھی بات چیت کی اور چینی سیکوریٹی عہدیداروں کے ساتھ مختصر تبادلہ خیال کیا۔ چین کا کہنا ہیکہ کوویڈ وباء کے باعث اس وقت بات چیت کیلئے آمنے سامنے ہونا ممکن نہیں ہے۔ نیپالی عہدیدار کے مطابق 8 سال قبل یہاں پر سڑک کی تعمیر کے دوران سرحدی پلر نمبر 11 کو نقصان پہنچا تھا۔ اس کے بعد سے یہاں پر کوئی پلر کھڑا نہیں کیا گیا۔ مقامی عوام کا کہنا ہیکہ یہ علاقہ ہمارا ہے جہاں پر نیپال ماضی میں کئی مقاصد کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ کھٹمنڈو میں نیپال کے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ نے کہا کہ ضلع ہملا کے حکام کی جانب سے بنیادی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اخبارات میں چین کی تعمیری سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ چین۔ نیپال سرحد پر چین کی جانب یہ تعمیرات کی گئی ہیں۔ نیپال اور چین کے درمیان سرحد کا کوئی بڑا تنازعہ نہیں ہے۔ ان کے درمیان صرف ماونٹ ایوریسٹ کی اونچائی کو لیکر اختلافات ہیں۔