کھٹمنڈو: اگرچہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو ہندوستان سے جوڑنے والا ریل منصوبہ سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے ، لیکن چین کو کھٹمنڈو سے جوڑنے والی ریلوے لائن پر کام بہت تیز رفتاری سے جاری ہے اور یہ لائن کیرونگ اور کھٹمنڈو کے درمیان تقریباً 72 کلومیٹر لمبی ہوگی۔ یہ لائن چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا حصہ ہے۔ کھٹمنڈو-کیرونگ ریلوے لائن کا ارضیاتی مطالعہ آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے ۔ یہ مطالعہ چینی حکومت کے تکنیکی اور مالی تعاون سے کیا جا رہا ہے ۔ کھٹمنڈو، نوواکوٹ اور رسووا اضلاع میں فزیبلٹی اسٹڈیز جاری ہیں جو اس ریلوے لائن سے منسلک ہوں گے ۔ تین اضلاع میں 80 میں سے 75 مقامات پر ڈرلنگ کے ذریعے مٹی نکالی گئی ہے ۔میڈیا رپورٹ میں نیپالی محکمہ ریلوے کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مٹی کی جانچ کا 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ آٹھ مقامات پر 400 میٹر کی گہرائی تک مٹی کی کھدائی کی جانی ہے جس میں سے سات مقامات پر کام مکمل ہو چکا ہے ۔ نیپالی محکمہ ریلوے کے ترجمان اور سینئر ڈویژنل انجینئر کمل کمار ساہا نے بتایا کہ تینوں اضلاع میں ریلوے لائن کو جوڑنے کیلئے ممکنہ مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے اور وہاں سے مٹی، پتھر، پانی اور چٹانوں کے نمونے جمع کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں ابتدائی مطالعہ مکمل کرنے کے بعد اب دوسرے مرحلے میں ان ممکنہ مقامات پر ڈرل مشین کے ذریعے مٹی کا تجربہ کیا گیا ہے جہاں ٹرین چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرلنگ کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اس ڈرلنگ کے ذریعے نکالی گئی مٹی، پتھر، پانی اور چٹان کے نمونوں کا نیپال میں تجربہ کیا گیا ہے اور کچھ کو چین لے جایا گیا ہے ۔ساہا کا کہنا ہے کہ مٹی، پتھر، پانی اور چٹانوں کے نمونے جو نیپال میں ٹسٹ نہیں کیے جا سکے تھے ، جانچ کیلئے چین بھیجے گئے تھے ۔ نمونے جانچ کیلئے رسوا گڑھی کے راستے چین بھیجے جا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ساہانے کہا کہ وقتاً فوقتاً مقامی لوگوں کی طرف سے رکاوٹوں کی وجہ سے کام متاثر ہوتا رہا ہے ۔ جغرافیائی مشکلات کی وجہ سے وقتاً فوقتاً مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔ بعض مقامات پر شدید بارشوں کے باعث مٹی کے تودے گرنے سے کام روکنا پڑا۔پہلے مرحلے کا ابتدائی مطالعہ مکمل ہونے میں ایک سال لگا۔
یعنی چینی تکنیکی ٹیم، جو دسمبر 2022میں نیپال میں ریلوے کی فزیبلٹی کا مطالعہ کرنے آئی تھی، اس نے جنوری 2023کے پہلے ہفتے میں مطالعہ کا پہلا مرحلہ مکمل کیا۔ مطالعہ شروع ہونے کی تاریخ سے 42ماہ کے اندر مطالعہ مکمل ہونا تھا۔ لیکن مطالعہ شروع ہوئے 27ماہ گزر چکے ہیں۔ اب اس تحقیق کو 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نیپالی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مطالعہ مقررہ وقت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ چونکہ یہ ایک فزیبلٹی اسٹڈی ہے ، اس سے ریلوے لائن کی لاگت، وقت اور کل فاصلے کا تعین کیا جائے گا۔
فزیبلٹی اسٹڈی سے یہ بھی طے کیا جائے گا کہ ریلوے پر کتنی سرنگوں، پلوں اور اسٹیشنوں کی ضرورت ہے ۔ حتمی رپورٹ تیار ہونے کے بعد تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کی جائے گی اور تعمیراتی کام کو آگے بڑھایا جائے گا۔ چینی تکنیکی ٹیم اس تحقیق میں نیپالی محکمہ ریلوے کی مدد کر رہی ہے ۔فزیکل انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کی وزارت نے کہا ہے کہ پری فزیبلٹی اسٹڈی میں صرف ابتدائی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے اور اصل فاصلہ، ٹنل، لاگت، پل کی اونچائی، اسٹیشنز اور دیگر مسائل کو اب حتمی شکل دی جائے گی۔ تاہم، نیپالی محکمہ ریلوے کے حکام کیرونگ کھٹمنڈو ریل لنک کی لاگت اور چین کی طرف سے مالی امداد کی شرائط کے بارے میں کچھ بھی ظاہر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی تخمینہ ہے کہ اس ریل منصوبے کی تعمیر پر 271.368 ارب روپے لاگت آنے کا امکان ہے ۔ ابتدائی مطالعات کے مطابق راسووا گڑھی سے کھٹمنڈو تک ریلوے کا فاصلہ 72 کلومیٹر ہوگا۔ اس لائن کیلئے پری فزیبلٹی اسٹڈی نومبر 2018 میں کی گئی تھی۔ اکتوبر 2019 میں چینی صدر شی جن پنگ کے نیپال کے دورے کے دوران فزیبلٹی اسٹڈی شروع کرنے کیلئے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اسی طرح سال 2021 میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے دورہ نیپال کے دوران فزیبلٹی اسٹڈی کرانے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ۔ایک اور رپورٹ کے مطابق کچھ نیپالی ماہرین کا خیال ہے کہ کیرونگ اور کھٹمنڈو کے درمیان ٹرانس ہمالین ریلوے کی تعمیر تکنیکی اور مالیاتی بنیادوں پر چیلنجنگ ہے ۔ علاقے کا مشکل خطہ اور ماحولیاتی حساسیت اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹیں ہیں۔ ریل نیٹ ورک کے 95 فیصد کو سرنگ کی ضرورت ہے ، جس پر اس منصوبے پر 3 بلین امریکی ڈالر سے 3.5 بلین ڈالر لاگت آسکتی ہے ۔