مشرقی سرحد پر فوج کی تعداد میں اضافہ ، مکند نرونے کا عہدیداروں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ
نئی دہلی:فوجی سربراہ ایم ایم نرو نے دو روزہ دورہ پر آج لداخ پہنچ گئے ۔ چین کی جانب سے اشتعال انگیز فوجی نقل و حرکت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں پھر اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو مشرقی لداخ میں تازہ واقعات کی اطلاع دینے کے ایک دن بعد فوج کے سربراہ جنرل مکند نرونے آج خود فوجی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے لداخ پہنچے۔مشرقی لداخ میں ایکچوؤل لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) پر چین کیساتھ قریب چار مہینے سے جاری تعطل کے دوران پچھلے ہفتے سے ایک بار پھر تناؤ بڑھ گیا، کیونکہ چین نے پیگونگ جھیل کے جنوبی کنارے کے نزدیک ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان باہمی اتفاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صورت حال کو بدلنے کی کوشش کی۔ ہندوستانی فوج نے اس کوشش کو ناکام کردیا اور اس علاقے میں اپنا موقف مضبوط کرتے ہوئے اسٹراجک اہمیت کے اونچائی والے علاقوں پر ڈیرا ڈال دیا جس کے بعد سے علاقے میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔فوجی ذرائع کے مطابق فوج کے سربراہ آج صبح لداخ پہنچے جہاں انہوں نے سینئر افسروں کے ساتھ فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ جنرل نرونے نے ایک دن پہلے ہی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں وزیر دفاع کو لداخ میں ایکچوؤل لائن آف کنٹرول کی تازہ صورتحال سے واقف کرواچکے تھے ۔ انہوں نے حالات سے نمٹنے کیلئے فوج کی تیاریوں اور مستقبل کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔ہندوستان کا کہنا ہے کہ چینی فوجیوں نے منگل کو ایک بار پھر جارحانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کی کوشش کی تھی۔ چین مسائل کے حل کے لئے کمانڈر سطح کے مذاکرات جاری رہنے کے باوجود اس طرح کی حرکتیں کرکے حالات کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ اس دوران تناؤ کم کرنے اور حالات معمول پر لانے کیلئے فوجی افسروں کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے لیکن کوئی ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے ۔ ہندوستان نے چین کیساتھ سرحد میں جاریہ سال جون میں ہوئی بدترین کشیدگی کے بعد مشرقی سرحد پر بھی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا ہے۔دوسری طرف وزارت خارجی اُمور نے کہا ہے کہ گزشتہ چار ماہ میں حقیقی خط قبضہ کی کشیدہ صورتحال کے بعد چین کی جارحانہ سرگرمیوں کا راست نتیجہ ہے۔ وزیر خارجہ جئے شنکر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سفارتی سطح پر مسئلہ کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔ اپنی کتاب کی رسم اجراء تقریب کے موقع پر انہوں نے کہا کہ جو کچھ سرحد پر ہورہا ہے ، اس کا ہندوستان اور چین کے تعلقات پر اثر پڑے گا۔ دوسری طرف ہندوستان میں چینی سفارت خانہ کے ترجمان جی رونگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور اس کا پرامن حل تلاش کرلیا جائے گا۔