نئی دہلی: 6 اپریل ( ایجنسیز ) مغربی ایشیا میں جنگ کے دوران چین کی جانب سے ایران کو خفیہ طور پر مدد فراہم کرنے کی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ اس پس منظر میں مزید معلومات سامنے آئی ہیں۔بتایا گیا کہ چین کی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت اور اوپن سورس ڈیٹا کا استعمال کرکے امریکہ کی فوجی تعیناتی اسلحہ کے ذخائر جنگی طیاروں، طیارہ بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت و فوجی اڈوں پر مسلسل نظررکھ رہی ہیں۔ایک طرف چین کھلے عام دونوں فریقوں کو جنگ ختم کرنے کا مشورہ دے رہا ہے تو دوسری طرف خفیہ طور پر ایران کی مدد کر رہا ہے۔ اس کیلئے وہ اپنی خانگی کمپنیوں کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔کچھ اداروں کے مطابق چین کی کمپنیاں عوامی طور پر دستیاب سیٹلائٹ تصاویر، فلائٹ ٹریکرس، بحری نقل و حمل کی معلومات اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے امریکی فوج کی نگرانی کر رہی ہیں۔کہا گیا کہ یہ تمام معلومات چینی کمپنیاں ایران کے اعلیٰ فوجی حکام تک پہنچا رہی ہیں۔انٹیلی جنس ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان نگرانی کے آلات کی مدد سے کوئی بھی شخص کہیں سے بھی طیاروں کی مواصلات کا تجزیہ کر سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے امریکی حکام اور ماہرین تحقیق کر رہے ہیں ۔ماہرین نے خبردار کیا کہ چین کے خانگی شعبے کی جیو اسپیشل تجزیاتی صلاحیتوں میں اضافہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کیلئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ H/K