کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، سرحدی تنازعہ پر لفظی جنگ میں شدت
ممبئی: شیوسینا۔یو بی ٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کرناٹک میں داخل ہونے کی دھمکی دی جس طرح چین ہندوستانی علاقے میں داخل ہوا ہے اور اس کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، اس کے بعد مہاراشٹرا کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر لفظوں کی تازہ جنگ چھڑ گئی ہے۔ جس طرح چین (ہندوستان) میں داخل ہوا ہے، ہم بھی (کرناٹک) میں داخل ہوں گے، ہمیں اس کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس (تنازعہ) کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن کرناٹک کے چیف منسٹر آگ بھڑکا رہے ہیں۔ یہ الزام لگاتے ہوئے کہ مہاراشٹر میں ایک کمزور حکومت ہے جو کوئی موقف نہیں لے رہی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ سرحدی صف بندی 70 سال پرانی ہے اور ہمارے پاس کرناٹک کے لوگوں کے خلاف کچھ نہیں ہے، لیکن یہ انسانیت کا بھی سوال ہے۔ راوت نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جب مہاراشٹر کے چیف منسٹر ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملنے گئے تھے، کیا انہیں اس معاملے میں خاموش رہنے کو کہا گیا تھا۔ تازہ ترین بیان اس وقت بھی سامنے آیا جب اپوزیشن مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) نے شندے ۔ فڈ نویس حکومت پر زور دیا کہ کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی کے تازہ ترین جارحانہ انداز کے مقابلے میں سخت موقف اپنائے۔ اسمبلی میں قائد اپوزیشن اجیت پوار نے کہا یہ شاہ کی مداخلت اور سپریم کورٹ میں زیر التوا معاملہ کے باوجود ہے۔ ہم آپ سے بومئی کے تازہ ترین اقدامات اور بیانات کے تناظر میں اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹرا مقننہ کے دونوں ایوانوں کو کرناٹک کے سرحدی دیہاتوں میں مراٹھی بولنے والے لوگوں اور ان پر ہمارے علاقائی دعووں کی حمایت میں متفقہ قراردادیں پاس کرنی چاہئیں۔ پوار نے کہا ہم نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں اس کی مانگ کی تھی اور حکومت نے یقین دلایا تھا کہ یہ کیا جائے گا۔ حکومت کو قرارداد لانی چاہیے اور ہم اس کی حمایت کریں گے۔ کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ شندے ۔ فڈنویس حکومت کرناٹک کے داداگیری (دھمکانے) کے ہتھکنڈوں کے خلاف کیوں خاموش ہے۔