نئی دہلی : بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آر ہری کمار نے آج کہا کہ ہندوستانی بحریہ بحر ہند میں چین کی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اورکووڈ چیلنج کے باوجود ملک کے سمندری مفادات کے تمام منفی حالات میں محدود وسائل کا استعمال کرتے ہوئے دفاع کرنے کے لئے پوری طرح تیارہے۔ یوم بحریہ کے موقع پر یہاں سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمرل ہری کمار جنہوں نے تین روز قبل بحریہ کی باگ ڈور سنبھالی تھی، کہا کہ بحریہ کو تینوں سرویسز کے انضمام اور ملک کو دفاعی شعبہ میں خود مختار بنانے کے لئے چلائی جارہی حکومت کی تمام اسکیموں کی بھرپور حمایت کررہی ہے اور ان میں جتنا ممکن ہو تعاون کررہی ہے۔ ایڈمرل نے کہا کہ ان کی قیادت میں بحریہ کا نصب العین ’شپس فرسٹ‘ ہوگا کیونکہ ہمارے جنگی جہاز اور ان پر تعینات افرادی قوت ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ جس طرح فضائیہ کا نعرہ ’ایئر کرافٹ فرسٹ‘ ہے، اسی طرح بحریہ کا نعرہ ہے۔ بحریہ کی آبدوز سے متعلق انٹلی جنس کے افشاء ہونے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس وقت مقامی ایجنسی اور بحریہ کی جانب سے اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ بحریہ ہر ممکن تعاون کررہا ہے اور اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی سرحد پر اور کوویڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر بحریہ بیک وقت دو پیچیدہ چیالنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جب ان سے چینی بحریہ کی سرگرمیوں اور اس کے پاس موجود جنگی جہازوں، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں کی بڑی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ چین کی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے صرف جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی تعداد ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے افرادی قوت بھی اتنی ہی اہم ہے ۔ بحریہ کے پاس اعلیٰ اور ہنر مند اور تربیت یافتہ افرادی قوت ہے جو کسی بھی مقابلے میں پیچھے نہیں ہٹے گی۔