چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے معاملے کو ہندوستان ، اقوام متحدہ میں نہیں اُٹھائے گا

   

اقوام متحدہ:ہندوستان نے کہا ہے کہ مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن(ایل اے سی)پر چین کے ساتھ موجودہ سرحدی تنازعہ کو وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر نہیں اٹھائے گا۔ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ دونوں فریق اس تنازعہ کا حل دوطرفہ بات چیت کے ذریعہ کرسکتے ہیں۔اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس تریمورتی نے ایک بیان میں کہا کہ’’دونوں ملک اتنے سلجھے ہوئے ہیں کہ باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے کی سمت میں کی جانے والی کوششوں اور دوطرفہ مذاکرات کے توسط سے اس تنازعہ کو حل کرسکتے ہیں۔چین کے ساتھ سرحد تنازعہ کے امور پر اقوام متحدہ میں مذاکرات کرانے کا ہندوستان مطالبہ کرے گا یا نہیں اس پر مسٹرتریمورتی نے کہا کہ’’ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پہلے سے ہی دوطرفہ کام کررہے ہیں۔ہمارے دوطرفہ معاملات میں اقوام متحدہ کا کوئی کردار نہیں ہوسکتا”۔دراصل، مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر سرحد تنازعہ کے تعلق سے ہند-چین کے مابین گزشتہ تقریباً چارماہ سے کشیدگی برقرارہے۔اس کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان وزیرخارجہ کی سطح پر ملاقات سے لے کر اب تک کئی مرحلہ کی بات چیت ہوچکی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے دونوں ممالک کے مابین سرحدی تنازعہ کے تعلق سے ثالثی کی پیش کش کو بھی یہ کہہ کر ٹھکرادیا تھا کہ اس کا حل دوطرفہ بات چیت کے ذریعہ کیاجاسکتا ہے۔