چین کے ووہان میں NeoCov نامی ایک اور وائرس کی نشاندہی

   

انسانوں کے متاثر ہونے سے متعلق ڈبلیو ایچ او تحقیق میں مصروف
حیدرآباد۔28 جنوری (سیاست نیوز) 2019میں چینی شہر ووہان میں کورونا وائرس کی نشاندہی کے بعد سے دنیا ابھی تک سنبھل نہیں پائی ہے اور چین کے شہر ووہان کے سائنسدانوں نے NeoCov نامی ایک اور وائرس کی نشاندہی کے ذریعہ دہشت پھیلا دی ہے ۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس نئے وائرس کی نشاندہی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وائرس سے انسانوں کو کس حد تک نقصان پہنچے گا یا یہ وائرس انسانوں کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوگا اس کا مطالعہ کیا جانا ہے لیکن اگر وائرس میں موجود تبدیلی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں یہ انتہائی خطرناک ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔ سائنسدانوں اور ماہرین کا کہناہے کہ NeoCov کوئی نیا وائرس نہیں ہے بلکہ یہ کورونا وائرس کی طرح ہی کا وائرس ہے لیکن اس کی تبدیل شدہ قسم جنوبی افریقہ کے چمگادڑوں میں پائی جانے لگی ہے۔ وائرس کی نوعیت کے متعلق چینی سائنسدانوں اور محققین کا کہناہے کہ اس وائرس میں انسان کے نظام تنفس کو تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اگر یہ انسانوں میں پھیلنے لگتا ہے تو ایسی صورت میں یہ وائرس بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کا کہناہے کہ چمگادڑوں میں پائے جانے والے اس وائرس کی نشاندہی کے بعد محققین آرگنائزیشن آف انیمل ہیلت کے علاوہ فوڈ اینڈ اگریکلچر آرگنائزیشن کے محققین سے رابطہ میں ہیں اور اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ NeoCov کی تبدیل شدہ قسم کے پھیلنے کے امکانات کتنے ہیں۔ذرائع کے مطابق چینی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نئے وائرس کے انسانوں میں پھیلنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ انتہائی مہلک اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس ثابت ہوسکتا ہے ۔چینی شہر ووہان میں اس وائرس کی سائنسدانوں کی جانب سے توثیق کے بعد روس اور دیگر کئی ممالک کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اورکہا جا رہاہے کہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری تحقیق کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہاہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اس بات کی توثیق کی جاچکی ہے کہ NeoCov وائرس مارس وائرس کی طرح ہے جو چند برس قبل خلیجی ممالک میں پایا گیا تھا ‘ اس وائرس کے مہلک ہونے کے متعلق بھی عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے توثیق کی جا رہی ہے لیکن جانوروں سے انسانوں میں پھیلنے اور اس کی تبدیل شدہ قسم کے متعلق تحقیق کا عمل جاری ہونے کا دعویٰ کیا جا رہاہے۔تحقیقی مقالہ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ یہ وائرس انسانوںکو متاثر کرنے سے صرف ایک تبدیلی پر ہے اور اگر اس کی تبدیل شدہ قسم آتی ہے تو ایسی صورت میں تباہ کن رفتار سے یہ انسانوں کو متاثر کرسکتا ہے۔م