ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کا دفتر کورونا وائرس کی زد میں

   

عمارت کے ایک اٹنڈر کی کورونا سے موت، ایک ہفتہ تک دفاتر بند رکھنے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔10۔ جون (سیاست نیوز) شہر کی آبادیوں کے بعد اب کورونا وائرس نے سرکاری دفاتر میں پیر پھیلانے شروع کردیئے ہیں۔ چیف منسٹر کے دفتر کے بعد تلنگانہ سکریٹریٹ اور پھر بلدیہ ہیڈکوارٹر میں کورونا نے ملازمین کو اپنا شکار بنایا۔ تازہ نشانہ ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کا دفتر بنا جس کی عمارت میں کورونا کے مریض کی موت کے بعد دفتر کو ایک ہفتہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے لئے مطابق عابڈس پر واقع انشورنس بلڈنگ میں ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کا دفتر ہے۔ اس عمارت میں انشورنس کے علاوہ ٹریژری کا آفس موجود ہے۔ عمارت کی دوسری منزل پر کام کرنے والے ایک اٹنڈر میں کورونا کی علامات پائی گئیں اور اسے ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا ۔ علاج کے دوران کل رات اس کی موت واقع ہوگئی۔ وائرس کی علامات اور ہاسپٹل کی منتقلی کو راز میں رکھا گیا جس کے نتیجہ میں عمارت میں موجود دیگر دفاتر میں بدستور کام جاری رہا۔ اٹنڈر کی موت کی اطلاع ملتے ہی آج صبح سے عمارت میں سنسنی دوڑ گئی اور عہدیداروں اور ملازمین اپنے مکانات واپس ہوگئے۔ ہر ڈپارٹمنٹ نے اپنے ملازمین کو عمارت کے مکمل سینیٹائزیشن تک گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ اٹنڈر اکثر ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے دفتر آیا کرتا تھا۔ لہذا اقلیتی بہبود کے دفتر میں کام کرنے والے تمام عہدیداروں و ملازمین کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈائرکٹوریٹ کا ایک اٹنڈر بھی بخار میں مبتلا ہوگیا اور شبہ کیا جارہا ہے کہ یہ وائرس کی ابتدائی علامات ہیں۔ اس صورتحال کے بعد اقلیتی بہبود کے ڈائرکٹوریٹ کو عملاً بند کردیا گیا ہے اور ایک ہفتہ تک عہدیدار و ملازمین گھروں سے کام کریں گے ۔ عمارت کی مکمل سینیٹائزیشن کا کام شروع کردیا گیا۔ عہدیداروں اور ملازمین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بھی چوکس رہیں اور صحت میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوری ہاسپٹل سے رجوع ہوں۔