چیف جسٹس سوریہ کانت کے احکامات، پبلک سرویس کمیشن نے سفارشات میں تاخیر کی شکایت کی
حیدرآباد 5 فروری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے کئی ریاستوں میں مستقل ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقررات کے سلسلہ میں یونین پبلک سرویس کمیشن کو تجاویز روانہ کرنے میں تاخیر کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یونین پبلک سرویس کمیشن کو تلنگانہ کے مستقل ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کا عمل مکمل کرنے کے لئے 4 ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس باگچی پر مشتمل بنچ نے یونین پبلک سرویس کمیشن کے موقف سے اتفاق کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کے سلسلہ میں کئی ریاستوں کی جانب سے پبلک سرویس کمیشن کو تجاویز پیش کرنے میں غیرمعمولی تاخیر کی جاتی ہے۔ عبوری ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کے بعد بھی مستقل عہدیدار کے تقرر کے لئے سفارشات روانہ نہیں کی جاتیں۔ یونین پبلک سرویس کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومتوں کے رویہ کے نتیجہ میں میرٹ اور سینئر عہدیداروں کے ناموں پر غور کرنے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ کمیشن نے مختلف ریاستوں کا حوالہ دیا جنھوں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کے سلسلہ میں سفارشات روانہ نہیں کی ہیں۔ چیف جسٹس کی زیرقیادت بنچ نے تلنگانہ ہائیکورٹ کے 9 جنوری کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔ پبلک سرویس کمیشن نے یہ درخواست دائر کی۔ تلنگانہ ہائیکورٹ نے کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کا یہ عمل سپریم کورٹ کے گائیڈ لائنس کی روشنی میں اندرون 4 ہفتے مکمل کیا جائے۔ کمیشن کے وکیل نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ کے گائیڈ لائنس کے مطابق مقررہ مدت میں سفارشات روانہ نہیں کئے ہیں۔ کمیشن نے کہاکہ تلنگانہ میں نومبر 2015ء میں آخری باقاعدہ ڈائرکٹر جنرل پولیس کا تقرر کیا گیا جو نومبر 2017ء میں وظیفہ پر سبکدوش ہوگئے۔ چیف جسٹس نے کمیشن کی تشویش سے اتفاق کرتے ہوئے ریاستوں کی جانب سے سفارشات کی روانگی میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کمیشن کو چاہئے کہ امپیانلمنٹ کمیٹی کا جلد اجلاس طلب کرتے ہوئے تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل پولیس کے عہدہ کے لئے سفارش کریں۔ عدالت نے اِس مرحلہ کی تکمیل کے لئے 4 ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے گزشتہ سال اپریل میں پبلک سرویس کمیشن کو ڈی جی پی کے عہدہ کیلئے ناموں کی سفارشات روانہ کی تھیں۔ شیودھر ریڈی کے ڈی جی پی کے طور پر تقرر کے مسئلہ پر ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ تلنگانہ حکومت نے 26 ستمبر 2025ء کو جی او جاری کرتے ہوئے شیودھر ریڈی کو ڈائرکٹر جنرل پولیس کے عہدہ کی اضافی ذمہ داری دی تھی۔ جی او کے خلاف 10 اکٹوبر کو تلنگانہ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی اور ہائیکورٹ نے جی او کو کالعدم کرنے سے انکار کیا تاہم ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کا عمل جلد مکمل کرنے کی حکومت کو ہدایت دی تھی۔1
تلنگانہ کی 2 خاتون صحافیوں کو سپریم کورٹ سے راحت
حیدرآباد 5 فروری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے تلنگانہ کی 2 خاتون صحافیوں کو پولیس تحویل میں دیئے جانے سے متعلق تلنگانہ ہائیکورٹ کے احکامات کو کالعدم کردیا۔ یو ٹیوب چیانل کی منیجنگ ڈائرکٹر پی ریوتی اور خاتون صحافی بنڈی سندھیا کو حیدرآٓباد سائبر کرائم پولیس نے مارچ 2025ء میں گرفتار کیا تھا۔ اُن پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف توہین آمیز مواد وائرل کرنے کا الزام تھا۔ دونوں کو گرفتاری کے بعد عدالتی تحویل میں دیا گیا۔ مجسٹریٹ نے پولیس تحویل میں دیئے جانے کی درخواست کو مسترد کردیا اور کہا تھا کہ پولیس نے تحقیقات جامع طور پر مکمل کرلی ہیں۔ پولیس تحویل کی درخواست مسترد کئے جانے کے خلاف سیشن کورٹ میں درخواست داخل کی گئی اور سیشن جج نے ستمبر 2025ء میں مختصر مدتی تحویل کو منظوری دی۔ سیشن کورٹ کے فیصلہ کو خاتون صحافیوں نے ہائیکورٹ چیلنج کیا اور تلنگانہ ہائیکورٹ نے اکٹوبر 2025ء میں سیشن کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے پولیس تحویل کے حق میں فیصلہ سنایا۔ خاتون صحافیوں نے اِس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ 1
سپریم کورٹ نے پولیس تحویل کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے احکامات کو کالعدم کردیا۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ ایسے وقت جبکہ ملزمین ضمانت پر ہیں، اُنھیں پولیس تحویل میں نہیں دیا جاسکتا تاوقتیکہ اُن کی ضمانت منسوخ کردی جائے۔1