ڈانڈیا اور گربا رقص میں مسلم نوجوانوں کی شرکت کیخلاف انتباہ

   

نوراتری کے پیش نظر ہندوتوا وادی تنظیموں اور معطل بی جے پی رکن اسمبلی کا بیان

حیدرآباد۔15۔اکٹوبر(سیاست نیوز) نوراتری کے دوران شہرحیدرآباد وسکندرآباد میں ہونے والے ڈانڈیا اورگربا رقص کے پروگرام کے دوران مسلم نوجوانوں کو داخلہ کی اجازت نہیں رہے گی۔ ہندوتوا وادی تنظیموں کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو نوراتری کے دوران منعقد کئے جانے والے رقص کے پروگرامس میں شرکت کے خلاف شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے ہندوتوا تنظیموں کے ذمہ داروں نے کہا کہ اگر مسلم نوجوان ان پروگرامس میں نظرآتے ہیں تو امن و ضبط کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اسی لئے انہیں ان پروگرامس میں شرکت سے گریز کرنا چاہئے ۔بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے قائدین نے گربا اور ڈانڈیا رقص منعقد کرنے والے منتظمین کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ پروگرام میں داخل ہونے والوں کے آدھار کارڈ لازمی چیک کریں اور مسلم نوجوانوں کو ان پروگرامس میں داخل ہونے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔بھارتیہ جنتا پارٹی سے معطل کردہ رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ نے بھی اس سلسلہ میں انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈانڈیا اور گربا رقص کے پروگرامس میں کسی غیر ہندو کو داخل ہونے نہ دیا جائے بلکہ ان پروگرامس میں خدمات انجام دینے والے باؤنسرس‘ ویڈیو گرافرس‘ ایونٹ مینیجر کے علاوہ دیگر عملہ بھی ہندو ہی ہونا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ نوراتری کے دوران ’’لوجہاد‘‘ کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے اسی لئے اسے روکنے کے لئے اس طرح کے اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔ رکن اسمبلی گوشہ محل نے شہر حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں ڈانڈیا اور گربا کے پروگرام منعقد کرنے والے منتظمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ داخلہ پر لازمی آدھار کارڈ چیک کریں اور کسی بھی غیر ہندو نوجوان کو ان پروگرامس میں داخلہ کی اجازت نہ دیں۔ انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی پروگرام کی جگہ پر کوئی غیر ہندو یا مسلم نوجوان پایا جاتا ہے تو منتظمین خود صورتحال کے ذمہ دار ہوں گے۔ راجہ سنگھ کے علاوہ بی جے وائی ایم نے بھی ان پروگرامس میں غیر ہندو نوجوانوں کے داخلہ پر مقدمات کے اندراج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی ڈانڈیا اور گربا کے پروگرامس میں غیر ہندو نوجوان پائے جاتے ہیں تو وہ اور ان کی ٹیم کی جانب سے ان نوجوانوں کے علاوہ منتظمین کے خلاف بھی فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں گے۔
لڈو یادو نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ہر سال ’لو جہاد ‘ کے واقعات میں ہونے والے اضافہ کو روکنے کے لئے اس طرح کے سخت گیر اقدامات ناگزیر ہیں اسی لئے وہ منتظمین سے اپیل کر رہے ہیں کہ داخلہ پر ہی آدھار کارڈ چیک کرنے کے بعد ہی داخلہ کی اجازت دی جائے ۔ انہو ںنے ریاست میں امن و امان کی برقراری کے لئے ان اقدامات کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوراتری کے دوران منعقد کئے جانے والے یہ پروگرام خالص ہندو مذہب کے ہوتے ہیں۔