ڈاکٹرس پر حملوں کے انسداد کیلئے مناسب اقدامات ناگزیر

   

میدک میں تمام دواخانے بند رہے۔ ڈاکٹر پی سریندر کا بیان
میدک ۔/18 جون، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں ڈاکٹروں پر حملوں کے واقعات کو لے کر ڈاکٹرس کی اسوسی ایشن آئی ایم اے نے ملک گیر ہسپتالوں اور اپنے کلینکس کو بطور احتجاج 17جون کو ایک روزہ اپنی خدمات کو بند کیا۔ جس کا انڈین میڈیل اسوسی ایشن نے اعلان کیا تھا۔ چنانچہ میدک ضلع اور ٹاون میں سرکاری ہستپالوں میں آؤٹ پیشنٹ خدمات مفلوج رہیں۔ اسی طرح تمام غیر سرکاری دواخانوں میں بھی ڈاکٹروں نے اپنی خدمات بند رکھیں۔ ڈاکٹروں نے ایریا ہسپتالوں پر کچھ دیر کیلئے دھرنا منظم کیا۔ سرکاری ڈاکٹروں سے یگانگت کا اظہار کرتے ہوئے غیر سرکاری ڈاکٹروں نے بھی اپنا تعاون پیش کیا۔ صدر ضلع ای ایم اے ڈاکٹر پی سریندر نے کہا کہ صرف ایمرجنسی خدمات کو بحال رکھا گیا تھا۔ اسٹیٹ رکن عاملہ آئی ایم اے ڈاکٹر بی سی شیکھر نے کہا کہ کولکتہ کے ڈاکٹروں پر حملوں کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتوں کو چاہیئے کہ حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ونیز اس طرح کے حملوں کے انسداد کیلئے سخت قانون بھی بنایا جائے۔ انہوں نے حملہ کے خلاف سخت الفاظ میں مذمت کی اور سرکاری ہسپتالوں میں سیکوریٹی فراہم کرنے پر زور دیا۔سبھی احتجاجی ڈاکٹروں نے اپنی ایک تفصیلی یادداشت ضلع کلکٹر کے دھرما ریڈی کو پیش کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شیوادیال، مہیش پنٹا گوڑ، چندرا مولی، شریمتی جیوتی، ڈاکٹر سریش، ڈاکٹر نریش، نوین کمار ، اے چندر شیکھر، وجئے کمار، آر چندر شیکھر بھی شریک تھے۔