ڈاکٹرس کو تالیوں اور پھولوں کے بجائے احتیاطی کٹس کی ضرورت

   

عوام اور ڈاکٹرس کی زندگی سے کھلواڑ، تلگودیشم کا الزام
حیدرآباد۔/6 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ تلگودیشم پارٹی مہیلا وبھاگ کی صدر پروفیسر جوتسنا نے ڈاکٹرس اور نیم طبی عملے میں کورونا کیسس میں اضافہ کیلئے حکومت کے تساہل کو ذمہ دار قراردیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر مہیلا وبھاگ نے کہا کہ حکومت ایک طرف عوام تو دوسری طرف ڈاکٹرس کی زندگی سے کھلواڑ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کا مقابلہ کرنے والے ڈاکٹرس کو تالیاں اور پھولوں کی بارش نہیں بلکہ کورونا سے بچاؤ کیلئے درکار آلات اور سہولتیں دی جانی چاہیئے۔ ڈاکٹرس، نرسیس، اے این ایم اور آشا ورکرس کو درکار تعداد میں پی پی ای کٹس اور ماسکس سربراہ نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے آشا ورکرس اور اے این ایم کو ٹی اے، ڈی اے ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ پروفیسر جوتسنا نے کہا کہ ریاست میں درکار ٹسٹ اور طبی عملے کو پی پی ای کٹس اور ماسکس کی سربراہی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ وزیر صحت ای راجندر نے 10 لاکھ پی پی ای کٹس سربراہ کرنے کا دعویٰ کیا لیکن حکومت کو وضاحت کرنی چاہیئے کہ یہ کٹس آخر کہاں غائب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت عوامی زندگی سے کھلواڑ کررہی ہے۔ ڈاکٹرس اور نرسیس کی صحت کے تحفظ کیلئے تشکیل دی گئی سہ رکنی کمیٹی کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے پرائمری ہیلت سنٹرس میں ماسک اور دیگر سہولتوں کی سربراہی کے بارے میں وائیٹ پیپر کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ ہاسپٹل میں تبدیل کئے گئے گچی باؤلی ہاسپٹل میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔