نئی دہلی : انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے گزشتہ ہفتہ کولکاتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج میں خاتون ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے خلاف ڈاکٹروں کی جانب سے ہفتہ کی صبح 6 بجے سے 24 گھنٹے کی ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی ہے ۔ آئی ایم اے نے جمعہ کے روز کہا کہ تمام ضروری خدمات کو بحال رکھا جائے گا اور ایمرجنسی معاملوں کی تعداد پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ تاہم، معمول کی او پی ڈی خدمات بند رہیں گی اور متبادل سرجری بھی نہیں کی جائے گی۔آئی ایم اے نے ایک بیان میں کہاکہ تمام ضروری خدمات کو برقرار رکھا جائے گا۔ ہلاکتوں کی تعداد پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ ریگولر او پی ڈی خدمات کام نہیں کریں گی اور متبادل سرجری بھی نہیں کی جائیں گی۔ یہ بندش ان تمام علاقوں میں رہے گی جہاں ڈاکٹر جدید طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔آئی ایم اے نے کہا کہ 9 اگست کو کولکاتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج میں چیسٹ میڈیسن شعبہ کے ایک آن ڈیوٹی پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کی واردات سے طبی دنیا اور ملک دونوں پر سکتہ طاری ہے۔ آئی ایم اے نے کہاکہ جرائم کی صورتحال کو سنبھالنے میں کالج کے حکام نے لاپرواہی سے کام لیا اور پولیس کی تفتیش پہلے دن کے بعد ہی رک گئی۔ ریزیڈنٹ ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، آئی ایم اے کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج اور کینڈل مارچ بھی منعقد کیے گئے ہیں۔
لیڈی ڈاکٹر کے بعد ایک نرس کا ریپ اور قتل، نعش برآمد
نئی دہلی: لیڈی ڈاکٹر کے جنسی زیادتی اور قتل کے بعد ایک نرس کی تشدد زدہ نعش جھاڑیوں سے برآمد ہوئی جسے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اتراکھنڈ کے علاقہ رْدرا پور میں پیش آیا۔ نرس 30 جولائی کو اسپتال ملازمت کیلئے گئی تھی لیکن واپس نہیں لوٹی۔ بہن نے اگلے ہی دن پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔نرس کی تلاش کے دوران اس کی نعش اترپردیش کے ضلع بلاس پور سے مل گئی۔ پوسٹ مارٹم میں نرس کے ساتھ جنسی زیادتی اور گلا گھونٹ کر قتل کرنے کی تصدیق ہوگئی۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزمین کی تلاش شروع کردی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نرس کا مسلسل پیچھا کرتے ایک شخص کو دیکھا گیا تاہم جب پولیس گرفتاری کے لیے پہنچی تو وہ فرار ہوگیا جس کے بعد پولیس نے راجستھان کے شہر جودھ پور سے ایک جوڑے کو حراست میں لیا۔پولیس کو یقین ہے کہ گرفتار ملزم دھرمیندر اور اس کی بیوی کی مدد سے وہ مفرور ملزم تک پہنچ جائیں گے۔مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے میڈیکل کالج کے سیمینار روم سے 31 سالہ لیڈی ڈاکٹر کی نعش ملی تھی جس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد کولکتہ کے ڈاکٹرز ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 13 اگست کو، کولکاتہ ہائی کورٹ نے اب تک کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ریاستی پولس سے کہا کہ وہ اس معاملے کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کرے ۔