نئی دہلی : اعلیٰ ترین عدالت نے آج ایک قومی ٹاسک فورس قائم کرنے کا حکم دیا جو ڈاکٹروں کی حفاظت سے متعلق اپنی سفارشات دے گی۔ یہ کولکاتا میں ایک ڈاکٹر کا ریپ اور قتل کے بعد ملک گیر احتجاج کے بعد ہوا۔ سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک نو رکنی ٹاسک فورس قائم کرنے کا حکم دیا جو ملک میں ڈاکٹروں کے لیے کام کے جگہوں کو محفوظ بنانے والے ضوابط کا نقشہ اور لائحہ عمل پیش کرے گی۔ ٹاسک فورس کو تین ہفتہ کے اندر اپنی عبوری رپورٹ اور دو ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کا ریپ اور قتل کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے اور اس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ججوں کی تین رکنی بنچ نے کہا کہ ٹاسک فورس کو اسپتالوں اور میڈیکل کیمپس کو ڈاکٹروں کے لیے محفوظ بنانے کے طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دھننجایا یشونت چندرچوڑ نے کولکاتا کے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں خوفناک ریپ اور قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس چندرچوڑ نے کہا، “ڈاکٹرز اور خواتین ڈاکٹروں کی حفاظت قومی مفاد اور مساوات کے اصول کا معاملہ ہے۔ قوم اس سے سبق لینے کے لیے ایک اور ریپ کا انتظار نہیں کر سکتی۔ کولکاتا ریپ واقعہ کے خلاف ڈاکٹروں نے بھارت بھر میں احتجاجی مظاہرے اور کینڈل مارچ کیے۔ حتی کہ 9 اگست سے جب مغربی بنگال ریاست کے دارالحکومت کولکاتا میں یہ قتل ہوا تھا، غیر ہنگامی مریضوں کی دیکھ بھال سے بھی انکار کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس حملہ نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کو درپیش ایک اہم مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ عدالت نے ٹرینی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے بعد ملک بھر میں اپنی ڈیوٹی پر جانے سے انکار کرنے والے تمام ڈاکٹروں سے جلد از جلد دوبارہ اپنے کام پر لوٹ آنے کی درخواست کی۔ اس نے ڈاکٹروں کو یقین دلایا کہ ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا۔