سابقہ اسپیکر کا سرکاری قتل ، وائی ایس آر کانگریس حکومت پر الزام ، جی بچیا چودھری کا ردعمل
حیدرآباد /18 ستمبر ( سیاست نیوز ) سینئیر قائد تلگودیشم پارٹی و سابق اسپیکر آندھراپردیش ریاستی قانون ساز اسمبلی ڈاکٹر کے سیوا پرساد راؤ کی آخری رسومات سرکاری اعزازات کے ساتھ انجام دینے حکومت کے اقدامات پر سابق وزیر و رکن اسمبلی مسٹر جی بچیا چودھری نے سنسنی خیز ریمارکس کئے اور کہا کہ ایک طرف حکومت نے آخری رسومات مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ انجام دینے کا اعلان کرکے دوسری طرف آخری رسومات میں عوام کو شرکت کرنے سے روکنے کیلئے دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا ۔ انہوں نے حکومت کے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے عوام کو آخری دیدار کرنے اور آخری رسومات میں شرکت سے روکنے کی ایک منظم سازش سے تعبیر کیا ۔ مسٹر جی بچیا چودھری نے اخباری نمائندںو سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لاکر آخری رسومات میں عوام کی شرکت کو روکنے کے باوجود مختلف سیاسی جماعتوں بشمول وائی ایس آر کانگریس پارٹی قائدین ، نامور شخصیتیں اور عوام کی کثیر تعداد کے علاوہ ڈاکٹر کے سیوا پرساد راؤ کے ہزاروں حامیوں نے ڈاکٹر سیوا پرساد راؤ کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر کے سیواپرساد راؤ نے خود ریاستی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی زیر قیادت حکومت نے ہی سرکاری قتل کیا اور اس اقدام کے بعد سرکاری اعزازات کے ساتھ آخری رسومات کی انجام دہی معنی خیز ہے ۔ بچیا چودھری نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی مجھے پریشان کرنے کیلئے نت نئے حربے استعمال کرنے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روبرو سیوا پرساد راؤ رو پڑے تھے ۔
انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہر لحاظ سے ڈاکٹر کے سیوا پرساد راؤ کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ مختلف طریقوں سے انہیں تکالیف پہونچانے کے اقدامات کئے ۔