کراکس ۔ 5 جنوری (ایجنسیز) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو آج پیر کے روز نیویارک کے مین ہیٹن میں جس وفاقی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے، یہ وہی وفاقی عدالتی دائرہ کار ہے جس کے تحت ماضی میں پاکستانی نڑاد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ چلایا گیا تھا اور انہیں 2010 میں سزا سنائی گئی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس جس عدالت کے تحت سنا گیا تھا، جو آج بھی امریکہ کے سب سے طاقتور اور بااثر وفاقی عدالتی نظام میں شمار ہوتا ہے۔ اس عدالت کا تاریخی پس منظر بھی غیر معمولی ہے۔ خود سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کی آفیشل عدالتی تاریخ کے مطابق نیویارک میں وفاقی عدالت کا پہلا اجلاس نومبر 1789 میں ہوا تھا اور یہی وہ عدالتی روایت ہے جو وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہو کر آج کے سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کی صورت میں موجود ہے۔اسی وجہ سے اسے امریکی عدالتی نظام میں غیر رسمی طور پر ’مدر کورٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہی عدالتی دائرہ ہے جہاں ماضی میں کئی عالمی سطح کے ہائی پروفائل مقدمات سنے جا چکے ہیں۔ اسی مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں برنارڈ میڈوف کو 29 جون 2009 کو دنیا کے سب سے بڑے پونزی اسکینڈل میں 150 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی عدالتی نظام کے تحت سیم بینک مین فریڈ کو مارچ 2024 میں مالی فراڈ کے مقدمات میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی دائرہ کار میں گھسلین میکسویل کو جیفری ایپسٹین کے ساتھ کم عمر بچیوں کے جنسی استحصال سے متعلق سازش میں 20 سال قید کی سزا دی گئی۔ اسی عدالت میں مارٹھا اسٹیورٹ کے کیس کی سماعت ہوئی اور انہیں جولائی 2004 میں پانچ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ اس عدالت میں ہر مقدمہ لازمی طور پر سزا پر منتج نہیں ہوتا بعض ہائی پروفائل کیسز میں جیوری نے ملزمان کو بعض یا تمام الزامات سے بری بھی کیا ہے یا مقدمات تکنیکی بنیادوں پر ختم بھی ہوئے ہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اس عدالتی نظام سے کوئی بری نہیں ہو سکا۔ مجموعی طور پر اگر صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف نارکو ٹیررازم، بڑے پیمانے کی کوکین اسمگلنگ یا اسلحہ سے متعلق سخت دفعات عدالت میں ثابت ہو جاتی ہیں تو امریکی قانون کے تحت انہیں طویل المدت قید، حتیٰ کہ عمر قید تک کی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔
