معین آباد کے خاندان کو انصاف کا مطالبہ، متاثرین کو 10 لاکھ ایکس گریشیا کی سفارش
حیدرآباد: سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا اور ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے آج عثمانیہ ہاسپٹل پہنچ کر کھمم کی متاثرہ لڑکی سے ملاقات کی ۔ انہوں نے علاج کے سلسلہ میں ڈاکٹرس سے معلومات حاصل کیں۔ سی پی آئی قائدین نے متاثرہ خاندان کو حکومت کی جانب سے 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور کسی کارپوریٹ ہاسپٹل میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ پولیس پر دباؤ بناتے ہوئے مقدمہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے خواتین غیر محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں دلت لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ پر وزیراعظم ، وزیر داخلہ اور چیف منسٹر اترپردیش نے خاموشی اختیار کرلی اور اترپردیش امن و ضبط کی صورتحال کے اعتبار سے بدترین ریاست بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ یو پی حکومت کے خلاف کارروائی کرتے ۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ملک کو آزاد ہوئے 74 سال گزر گئے لیکن آج تک خواتین غیر محفوظ ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والی کمسن لڑکیوں کو ہوس کا شکار بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معین آباد میں اقلیتی طبقہ کی کمسن لڑکی کے ساتھ ٹی آر ایس کے قائد مدھو یادو نے ظلم کیا لیکن پولیس اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کھمم میں دلت لڑکی کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی ۔ وینکٹ ریڈی نے وزیر داخلہ اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ دلت لڑکی کے موثر علاج کا انتظام کرے۔ متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ایکس گریشیا دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو غیر جانبداری کے ساتھ خدمات انجام دینی چاہئے ۔