ڈاکٹر کفیل خان کو بالآخر کلین چٹ مل گئی

,

   

آکسیجن کی کمی سے بچوں کی اموات کے حقیقی مجرمین کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی 27 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) آپ کو یاد ہوگا کہ اترپردیش کے گورکھپور میں آکسیجن کی کمی یا قلت کے نتیجہ میں بے شمار بچوں کی موت ہوگئی تھی اور اس کے لئے جن افراد کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا ان میں ماہر امراض اطفال ڈاکٹر کفیل خان بھی شامل تھے لیکن اس بہادر اور جیالے نوجوان ڈاکٹر نے قانونی اور اخلاقی ہر سطح پر اپنے خلاف رچی گئی سازش کا مقابلہ کیا اور جیسا کہ ہمیشہ سچائی اور حق کی جیت ہوتی ہے ایسے ہی کامیاب بھی رہا۔ بچوں کی موت کے معاملہ میں بالآخر ڈاکٹر کفیل خان کو کلین چٹ دے دی گئی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ڈاکٹر کفیل خان نے سیاست ٹی وی اور روزنامہ سیاست کو بھی انٹرویو دیتے ہوئے یہی کہا تھا کہ دراصل اعلیٰ عہدیداروں اور اُس وقت کے وزیر صحت سدھارتھ سنگھ کو بچانے کے لئے انھیں (ڈاکٹر خان) کو پھنسایا گیا تھا اور 9 ماہ تک انھیں جیل میں انتہائی بُرے حالات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی تھیں۔ حد تو یہ ہے کہ جیل میں انھیں ٹائلٹ کے باہر گھنٹوں کھڑا کردیا جاتا تھا۔ آپ کو بتادیں کہ بچوں کی اموات کا یہ واقعہ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج و اسپتال میں پیش آیا تھا اور مسلسل دو برسوں تک اس کی تحقیقات کا سلسلہ جاری رہا جس میں ڈاکٹر کفیل خان کو بے قصور قرار دیا گیا۔ 10 اگسٹ 2017 ء کو اس اسپتال میں آکسیجن نہ ہونے کے نتیجہ میں کثیر تعداد میں بچوں کی اموات ہوئی تھیں جن پر انھیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ تاہم انٹرنل اسپتال انکوائری میں ڈاکٹر خان کو بدعنوان اور ٹھیک سے فرائض انجام نہ دینے و تمام الزامات سے بری کردیا گیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف سارے معاملہ کی رپورٹ 18 اپریل کو ہی آگئی تھی لیکن انھیں اب حوالے کی گئیں۔ انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان ٹینڈر اور آکسیجن سیلنڈرس کے بلز کی ادائیگی کے ذمہ دار نہیں تھے۔ اب ڈاکٹر کفیل خان کا مطالبہ ہے کہ جن بچوں کی اس سرکاری اسپتال میں اموات ہوئی ہیں ان کے والدین کو معاوضہ دیا جانا چاہئے اور حقیقی ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ ڈاکٹر کفیل خان اگرچہ خود کو اس معاملہ میں بری کئے جانے پر خوش ہیں لیکن دو برسوں کے دوران وہ اور اُن کے ارکان خاندان جن حالات سے گزرے ہیں اس کی تلخ یادیں اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ آیا زندگی کے قیمتی ڈھائی سال حکومت انھیں واپس دے سکتی ہے؟ واضح رہے کہ مذکورہ اسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث 70 بچوں کی اموات ہوئی تھیں اور ڈاکٹر کفیل خان نے باہر سے آکسیجن منگواکر بے شمار بچوں کی جان بچائی تھی جس پر خود ڈاکٹر کفیل کا دعویٰ ہے کہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کافی ناراض ہوگئے تھے اور یہاں تک کہا تھا ’’تُو ہیرو بن رہا ہے ٹھیک ہے‘‘ اس طرح یوگی آدتیہ ناتھ نے انھیں بالواسطہ دھمکی دی تھی۔ ڈاکٹر کفیل خان کو اُمید ہے کہ یوگی حکومت ان کی خدمات بحال کردے گی۔