علیگڑھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مخالف سی اے اے تقریر سے ’’مطلب کی باتیں ‘‘ اخذ کئے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
پریاگ راج : الہ آباد ہائی کورٹ کی ایک ڈیویژن بنچ نے منگل کو بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے ان پر لگائے گئے این ایس اے کی توسیع کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ چیف جسٹس گویند ماتھر اور جسٹس سمترا دیال سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ ڈاکٹر کفیل کی ماں کی جانب سے دائر پٹیشن پر سماعت کے بعد دیا جس میں انہوں نے ڈاکٹر کفیل کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ 13 فروری 2020 کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ علی گڑھ کے ذریعہ ڈاکٹر کفیل کی گرفتاری کا حکم اور اترپردیش حکومت کے اس فیصلے کی تصدیق کو کالعدم قرار دے دیا۔ جج نے مزید کہا کہ ڈاکٹر کفیل کی حراست کی توسیع کا حکم بھی بے بنیاد اور غلط ہے۔ لہذا ریاستی حراست سے انہیں رہاکرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ گورکھپور کے رہنے والے ڈاکٹر کفیل کو اس سال ماہ فروری میں علی گڑھ کے ایک پروگرام میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ متھرا جیل میں قید ہیں۔ اگست کے آخری دنوں میں حکومت نے ان پر نافذ این ایس اے میں تین مہینے کی توسیع کی تھی، جسے ڈاکٹر کفیل کی فیملی نے کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ وہیں ریاستی حکومت نے ان کے این ایس اے میں توسیع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ایسا فیصلہ این ایس اے اڈوائزری بورڈ اور ڈسٹرکٹ مجسریٹ کی رپورٹ کی بنیاد پر لیا ہے۔ ان کے جیل میں قید رہنے کا وافر ثبوت موجود ہے۔ اس سے قبل آئی پی سی 153A کے تحت جیل میں قید ڈاکٹر کفیل کو ممبئی ایس ٹی ایف نے 29جنوری کو گرفتار کیا تھا۔
اس کے بعد ان پر 153B اور 505(02)کا اضافہ کیا تھا تھا۔ انہیں 10 فروری کو علی گڑھ عدالت نے رہا کردیا تھا لیکن 13 فروری کو یو پی حکومت نے ان پر این ایس اے اطلاق کردیا تھا۔الہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کے معاملے میں یو پی حکومت کے خلاف ایک سخت فیصلہ سنایا ہے۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو حبس بیجا میں رکھا گیا ہے ، لہٰذا ان کو فوری طور سے رہا کیا جائے۔ ڈاکٹر کفیل خان کی والدہ نزہت پروین کی طرف سے داخل حبس بیجا کی عرضی پر عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ قانون دانوں کے مطابق عدالت سے ڈاکٹر کفیل کی یہ بہت بڑی جیت ہے۔ ڈاکٹر کفیل کے وکیل اور الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ نذرالاسلام جعفری کا کہنا ہے کہ قانونی اصطلاحات کی روشنی میں الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کافی سخت ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے ڈاکٹر کفیل خان کی گرفتاری کے معاملے میں یو پی حکومت کے رویے پرسخت تنقید کی ہے۔ نذرالاسلام جعفری کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل کی گرفتاری، ان کو متھرا جیل میں بند رکھنے اور ان پر نیشل سکیورٹی ایکٹ ( این ایس اے ) تعمیل کئے جانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے تازہ فیصلہ سے ڈاکٹر کفیل خان کو قانونی طور سے کافی تقویت ملی ہے اورجلد ہی ڈاکٹر کفیل خان تمام کیسوں سے بری ہو جائیں گے۔