ماسکو: عالمی وبا کورونا وائرس ‘کووِڈ۔19’ کا شکار جنوبی افریقہ نے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف روسی ویکسین کو اگرعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے منظوری ملتے ہے تو وہ جلد از جلد اسے خریدنے پر غور و خوض کرے گا۔ روس میں جنوبی افریقہ کے سفیر مدوِہا آرون مُڈیمیلی نے جمعہ کو یہ اظہار خیال کیا۔ مُڈیمیلی نے کہا،‘ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ روس کے پاس کورونا کی ویکسین ہے اور ہو سکتا ہے کہ اسے ڈبلیو ایچ او کی منظوری مل جائے اور اس کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کو اسے ایکسپورٹ (برآمد) کیا جائے ۔ جنوبی افریقہ اس ویکسین کی درآمد (امپورٹ) کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہوگا’۔ در اصل روس 11 اگست کو کووِڈ۔19 کی ویکسین کو منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک ہے ۔ یہ ویکسین اگلے سال یکم جنوری سے عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوگی۔ روس کے گامیلیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور روس کی وزارت دفاع کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی ‘اسپوتنک وی’ نامی کورونا ویکسین سب سے پہلے کورونا متاثرین کے علاج میں سرگرم صحت اہلکاروں کو دی جائے گی۔ اس ویکسین کا پروڈکشن مشترکہ طو پر سے روسی ڈٓائریکٹ انویسٹمینٹ فنڈ (آر ڈی آئی ایف) کی جانب سے کیا جا رہا ہے ۔ آرڈی آئی ایف کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) کِریل دیمتیرو نے کہا کہ 20 ملکوں نے روس کی ویکسین خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور تقریباً ایک ارب ڈوز پروڈکشن کے لیے رقم بھی مل چکی ہے ۔ روس پانچ ملکوں میں اس ویکسین کا پروڈکشن کرنے پر متفق بھی ہے ۔ جنوبی افریقہ کے سفیر نے کہا کہ اگر ڈبلیو ایچ او کی جانب سے اس ویکسین کو مؤثر اور عام لوگوں کے لیے محفوظ قرار دی جاتی ہے تو وہ یقینی طور پر اسے خریدنے پر غور و خوض کرے گا۔
