ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے الاٹمنٹ میں دھاندلیاں عروج پر

   

عہدیداروں سے تعلقات رکھنے والے سیاسی دلالوں کا سرگرم عمل
حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) شہر میں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تخصیص میں جاری دھاندلیوں کی فوری اثر کے ساتھ تحقیقات شروع کی جانی چاہئے کیونکہ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے حصول کے لئے کئی سرکردہ عہدیداروں اور سیاستدانوں کی جانب سے بے نامی افراد کے نام پر درخواستیں داخل کرواتے ہوئے فلیٹس کے حصول کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور بعض افراد کو فلیٹس کی فروخت عمل میں لائی جانے لگی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں حکومت کی جانب سے تعمیر کردہ فلیٹس کے سلسلہ میں حکومت اور وزراء کی جانب سے بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ ان فلیٹس کے لئے درخواست داخل کرنے والوں کو کسی سے کوئی معاملت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے فلیٹس کی تخصیص کے طریقہ کار کو شفاف رکھنے کے اقدامات کئے گئے ہیں اور درخواست گذارو ںکو ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی فراہمی کے سلسلہ میں اختیار کردہ طریقہ کار میں کوئی بدعنوانیوں کی گنجائش نہیں ہے لیکن حکومت اور وزراء بالخصوص وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے بارہا یہ کہے جانے کے باوجود دونوں شہروں میں ڈبل بیڈ روم فلیٹ دلوانے والے دلال سرگرم عمل ہیں جو کہ عہدیداروں سے اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب عوام کو ٹھگ رہے ہیں۔ نئے تعمیر کئے جانے والے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے علاوہ اندرما ہاؤزنگ اور راجیو گاندھی آواس یوجنا کے تحت تعمیر کی گئی عمارتو ںمیں بھی فلیٹس کی فروخت عمل میں لائی جا رہی ہے ۔سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دلالوں کی جانب سے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے لئے درخواست داخل کرنے والوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں یہ کہا جا رہاہے کہ ان کی درخواست زیر التواء ہے اور بھاری رقم کی ادائیگی پر ہی انہیں فلیٹس کی تخصیص عمل میں لائی جائے گی بصورت دیگر ان کی درخواست مسترد ہوجائے گی ۔ بتایاجاتا ہے کہ سیاسی دلال جو کہ عہدیداروں سے تعلقات رکھتے ہیں وہ ان درخواستوں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے درخواست گذاروں کی تفصیلات حاصل کر تے ہوئے ان سے وصولی کر رہے ہیں۔ وزیر مسٹر کے ٹی راما راؤ نے چنچل گوڑہ میں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی عمارتوں کی افتتاحی تقریب میں درخواست گذارو ںکو مشورہ دیا تھا کہ وہ ان فلیٹس کے حصول کے لئے کسی کو بھی کوئی رشوت نہ دیں اور اس بات کو قبول نہ کریں کہ کوئی یہ فلیٹس آپ کو دلوا سکتا ہے ۔ان کے اس اعلان اور عوام کو دیئے گئے مشورہ کے باوجود ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی اسکیم میں بے تحاشہ بدعنوانیاں پائی جانے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان فلیٹس کے معاملات میں ملوث عہدیدارسیاسی دلالوں کو استعمال کرتے ہوئے بھاری رقومات وصول کر رہے ہیں۔م