کانگریس اقلیتی قائدین کی ہاوزنگ کارپوریشن سے نمائندگی، آبادی کے تناسب سے کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کانگریس کے اقلیتی قائدین نے ڈبل بیڈ روم مکانات میں مسلمانوں کے لئے کوٹہ میں اضافہ کا مطالبہ کیا۔ پارٹی قائدین کے ایک وفد نے آج ہاوزنگ کارپوریشن کی منیجنگ ڈائرکٹر چترا رامچندرن کے دفتر پہنچ کر یادداشت پیش کی۔ قائدین نے ویکر سیکشن ہاؤزنگ کے تحت ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر پر شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے حصہ دیا جانا چاہیئے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل کے علاوہ پی سی سی ترجمان سید نظام الدین، حیدرآباد سٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر سمیر ولی اللہ اور دوسروں نے یادداشت پیش کی۔ گزشتہ کئی دن سے چترا رامچندرن سے ملاقات کی کوشش کی جارہی تھی لیکن انہوں نے وقت نہیں دیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس قائدین نے کہا کہ حکومت نے تاحال 2 لاکھ 80 ہزار 616 ڈبل بیڈ روم مکانات 31 اضلاع میں منظور کئے جن میں سے صرف 16370 مکانات مکمل کئے گئے۔ کانگریس قائدین حقیقی صورتحال جاننے کیلئے چیف سکریٹری یا ہاؤزنگ کارپوریشن کے صدر نشین سے ملاقات کے خواہاں تھے لیکن انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ فنڈز کی کمی کے سبب مکانات کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ حکومت نے اکٹوبر 2015 میں جی او ایم ایس 10 جاری کرتے ہوئے ڈبل بیڈ روم مکانات میں مسلمانوں کو 7 فیصد تحفظات کا فیصلہ کیا جبکہ شہری علاقوں میں اقلیتوں کی آبادی 12 فیصد ہے۔ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں اقلیتوں کی قابل لحاظ آبادی ہے جبکہ کھمم میں مسلم آبادی دیگر اضلاع سے کم ہے۔ انہوں نے 2011 مردم شماری کے اعتبار سے مکانات میں مسلمانوں کو حصہ داری کی مانگ کی۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ سدھیر کمیشن نے شہری علاقوں میں 43 فیصد مسلمانوں کی آبادی کی نشاندہی کی ہے۔ کمیشن نے شہری علاقوں میں 20 فیصد اور دیہی علاقوں میں 10 فیصد تحفظات کی سفارش کی تھی۔ کانگریس قائدین نے ڈبل بیڈ روم مکانات میں موجودہ تحفظات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شہری علاقوں میں 20 اور دیہی علاقوں میں 10 فیصد تحفظات دیئے جائیں۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کے سکریٹری ساجد شریف اور رنگاریڈی ضلع کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے صدر محمد ریاض اس موقع پر موجود تھے۔
