تلنگانہ اسٹیٹ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں جنرل منیجر کا عہدہ غیر کیڈر عہدیدار کے سپرد
حیدرآباد۔4نومبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے ادارۂ جات میں عہدیداروں کے عدم تقرر اور مستقل عہدیداروں کی عدم موجودگی کے سبب من مانی درخواستوں کی یکسوئی اور اقرباء پروری کی تحقیقات کروائی جانی ضروری ہے کیونکہ جاریہ سال ماہ جولائی کے دوران جن 106 درخواست گذاروں کو ڈرائیور کم اونر اسکیم کے تحت گاڑیوں کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے ان میں ایسے کئی افراد کو کاروں کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے جو کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے قربت رکھتے ہیں اور ان کاروں کے حصول کے لئے کئی افراد نے بھاری رقم بطور رشوت اداکرنے کا بھی اعتراف کیا ہے لیکن اس کے باوجود رشوت لینے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے جنرل منیجر کے عہدہ پر جس شخص کو فائز کیا گیا ہے وہ اس عہدہ کا اہل نہیں ہے اور کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ونائب صدرنشین کے عہدہ کی اضافی ذمہ داری کرسچن مائناریٹیز کارپوریشن کی منیجنگ ڈائریکٹر کو دی گئی ہے ۔ کارپوریشن کی منظورہ جائیدادوں میں مجموعی اعتبار سے نصف سے زیادہ جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور کارپوریشن کے جنرل منیجر کے عہدہ پر سپرنٹنڈنٹ کیڈر کے حامل ملازم کو جوائنٹ دائریکٹر کیڈر کے عہدہ پر مامور کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کارپوریشن کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کوئی بھی اعلیٰ عہدیداروں سے رجوع ہونے کے موقف میں نہیں ہے۔ کارپوریشن میں جن جائیدادوں کو منظوری فراہم کی گئی تھی ان جائیدادوں پر خدمات انجام دینے والوں کے وظیفہ پر سبکدوش ہونے والوں کی جگہ اب تک تقررات نہیں کئے گئے ۔ جنرل منیجرکے عہدہ پر نان کیڈر عہدیدار کے تقررکے سبب پیدا ہونے والے مسائل کے سلسلہ میں کارپوریشن کے عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت اور عہدیداروں سے بجٹ کے حصول کے لئے نمائندگیوں کے علاوہ تقررات و دیگر امور کی تکمیل کے لئے کم از کم جنرل منیجر کیلئے جس کیڈر کا عہدیدار ہے اس کیڈر کے عہدیدار کو ذمہ داری تفویض کی جانی چاہئے لیکن ایسا نہ ہونے کے سبب ملازمین کی من مانی اور بدعنوانیوں کی متعدد شکایات موصول ہونے کے باوجود بھی کاروائی کے مجاز عہدیدار موجود نہ ہونے کے سبب شکایات جوں کی توں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کارپوریشن میں سینیئر عہدیداروں اور جنرل منیجر کے درمیان تال میل نہ ہونے کے سبب کارپوریشن کی سرگرمیاں ٹھپ ہیں اور جو سرگرمیاں جاری ہیں ان میں بدعنوانیوں کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ م