ریونت ریڈی کا الزام ، اہم شخصیتیں ملوث، ای ڈی عہدیداروں سے ملاقات
حیدرآباد۔11۔ مارچ (سیاست نیوز) صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ڈرگس معاملہ میں ملوث افراد کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریونت ریڈی نے آج انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے جوائنٹ ڈائرکٹر سے ملاقات کی اور ڈرگس معاملہ میں ہائی کورٹ فیصلہ کی نقل اور یادداشت حوالے کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگس معاملہ کی تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو فراہم کرنے سے ریاستی حکومت گریز کر رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خاطیوں کو بچانا چاہتی ہے۔ ریونت ریڈی نے ڈرگس معاملہ کی جانچ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حوالے کرنے کی درخواست کے ساتھ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کی تھی۔ انفورسمنٹ عہدیداروں سے ملاقات کے بعد ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں کس کو بچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بارہا اس بات کا اعلان کیا کہ ریاست میں گٹھکا، مٹکا ، گڈمبہ اور قمار بازی موجود نہیں ہے۔ 2017 ء سے تحقیقاتی عہدیداروںکو چوکس کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں ڈرگس میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جاسکی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگس کی سربراہی تعلیمی اداروں تک پہنچ چکی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ڈرگس کے بارے میں بات کرنے سے حیدرآباد کا برانڈ امیج متاثر ہوگا۔ بی سمن جیسے ٹی آر ایس قائدین نے بلند بانگ دعوے کئے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ سنگارینی کالونی میں کمسن لڑکی کی عصمت ریزی کے معاملہ میں گانجہ کا استعمال منظر عام پر آیا یا نہیں اس بات کی حکومت وضاحت کرے۔ دھول پیٹ میں گڈمبہ کی تیاری کے مراکز پر دھاوے کئے گئے لیکن تیار کرنے والوں کو متبادل روزگار فراہم نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں وہ گانجہ کی فروخت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکول سے کالجس تک ڈرگس کی لعنت پھیل چکی ہے۔ جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کے حدود میں کانگریس دور حکومت میں چار پبس تھے جو آج بڑھ کر 90 ہوچکے ہیں۔ بنجارہ ہلز اور جوبلی ہلز میں رات کے اوقات میں باہر نکلنے میں لوگ خوف محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ 2017 ء کی ڈرگس معاملہ کی جانچ کا کیا نتیجہ نکلا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کرنے والے عہدیدار اکن سبھروال کا اچانک تبادلہ کردیا گیا ۔ اس وقت پولیس نے 12 ایف آئی آر درج کئے تھے ۔ اسکام میں حکومت سے تعلق رکھنے والے اہم افراد ملوث ہیں۔ اس بارے میں تحقیقاتی ایجنسی سے شکایت کی گئی لیکن جانچ نہیں کی گئی ۔ہائیکورٹ میں درخواست داخل کی گئی۔ تلنگانہ کے نوجوانوں اور عوام کو ڈرگس کی لعنت سے بچانے کیلئے حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے عہدیدار تحقیقات کیلئے تیار ہیں لیکن حکومت تعاون سے گریز کر رہے ہیں۔ ای ڈی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت ان کے ذریعہ تحقیقات کے خلاف ہے۔ عہدیداروں نے واضح کردیا کہ حکومت کا کوئی تعاون حاصل نہیں ہے۔ ر