ڈسپلن شکنی پر ارکان اسمبلی کو کارروائی کا انتباہ، کابینہ میں توسیع پر ہائی کمان کا فیصلہ قطعی

,

   

بعض ارکان حیدرآباد تک محدود،ویک اینڈ پالیٹکس ترک کرنے اور بیان بازی سے گریز کا مشورہ :چیف منسٹر
( کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس )

حیدرآباد۔/15 اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ارکان اسمبلی کو ڈسپلن شکنی کی صورت میں کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے حدود سے تجاوز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس آج شمس آباد کے نووٹیل ہوٹل میں منعقد ہوا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی و کونسل نے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے تقریر کے دوران بعض ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کی جانب سے کابینہ میں توسیع اور دیگر امور پر میڈیا میں متنازعہ بیانات دینے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے ارکان اسمبلی کو ڈسپلن کی پابندی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کیلئے مشکل پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قائدین مشکل میں پڑ سکتے ہیں جو پارٹی کیلئے مسائل پیدا کریں گے۔ پارٹی کے خلاف بیان بازی سے فائدہ سے زیادہ نقصان ہوگا۔ کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر ارکان اسمبلی کی حالیہ بیان بازی پر ناراضگی جتاتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کابینہ میں توسیع کے بارے میں ہائی کمان کا فیصلہ قطعی رہے گا۔ اس بارے میں اگر کوئی بھی بات کرتا ہے تو فائدہ نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے ارکان اسمبلی کی جانب سے سوشیل میڈیا کے عدم استعمال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی اسکیمات کی موثر انداز میں تشہیر اور اپوزیشن کے پروپگنڈہ کا جواب دینے کا موثر ذریعہ سوشیل میڈیا ہے۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی الزام تراشی پر ارکان اسمبلی خاموش تماشائی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بعض ارکان اسمبلی اپنے حلقہ جات چھوڑ کر حیدرآباد تک محدود ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ وہ ’’ ویک اینڈ پالیٹکس‘‘ ترک کردیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتی عہدہ کے بارے میں کسی کو اندیشوں اور خدشات کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ ہائی کمان کا ہے اس بارے میں جو بھی اظہار خیال کررہے ہیں ان کی باتیں ریکارڈ ہورہی ہیں لہذا ارکان اسمبلی کو چوکس رہنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے اطلاعات کے مطابق رکن پارلیمنٹ بھونگیر کرن کمار ریڈی کی سرزنش کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آپ روزانہ ایک رکن اسمبلی کو وزیر کے طور پر اعلان کررہے ہیں یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے۔ کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر ہائی کمان نے فیصلہ کرلیا ہے اور وزارت میں کس کو شامل کرنا ہے اس کا قطعی فیصلہ ہائی کمان کرے گا۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ سے کہا کہ اس بارے میں دوبارہ اظہار خیال نہ کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کابینہ کے بارے میں بیان بازی سے قائدین اور کارکنوں کو الجھن کا شکار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہم تمام کا ایک ہی مقصد ہونا چاہیئے کہ ریاست میں کانگریس دوسری مرتبہ برسراقتدار آئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ باریک چاول کی سربراہی اسکیم سے حکومت کی نیک نامی ہوئی ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے حکومت کے خلاف پروپگنڈہ کا ہم تمام کو مل کر مقابلہ کرنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بہت جلد وہ ارکان اسمبلی کو انفرادی ملاقات کا وقت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ کامیابی کیلئے اپنے اسمبلی حلقہ جات میں عوام پر اثرانداز ہونے والے کام کریں۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کو حلقہ جات کی ترقی کیلئے ہر ممکن مدد کا بھروسہ دلایا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تلنگانہ حکومت کی اسکیمات برداشت نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔1