ڈنمارک کے وزیر خارجہ کو قرآن پاک جلانے پر افسوس

,

   

الجزائر: ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوک راسموسن نے اپنے الجزائری ہم منصب احمد عاطف کے ساتھ فون پر بات چیت میں کوپن ہیگن میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔الجزائر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہڈنمارک کے سفارت کار نے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہیں اور ڈنمارک کی مہمان نوازی اور رواداری کی روایات کے منافی ہیں۔راسموسن نے عاطف کو بتایا کہ ڈنمارک کی حکومت ایک بل کے متن کو حتمی شکل دینے والی ہے جو اس طرح کے طریقوں کو غیر قانونی قرار دے گا، جسے چار ہفتوں میں بحث کیلئے ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ ڈنمارک اور سویڈن نے گزشتہ ہفتوں میں اپنے اپنے دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں کیونکہ مسلم ممالک کے سفارت خانوں کے سامنے قرآن مجید کے نسخے جلائے گئے تھے ، جس سے مسلم دنیا میں غم و غصہ پھیل گیا ۔

سویڈن میں شاہی محل کے سامنے قرآن پاک کی بیحرمتی
اسٹاک ہوم: سویڈن میں ایک بار پھر کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہوئے قرآن پاک کی بے حرمتی کردی گئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق عراق سے تعلق رکھنے 2 ملعون افراد 37 سالہ سلوان مومیکا اور 48 سالہ سلوان نجم نے نے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سوئیڈش شاہی محل کے سامنے مرکزی چوک پر قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کیا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھے جو واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکتی رہی۔دونوں ملعون افراد کو سویڈن کے آزادی اظہار کے قانون کے تحت قرآن پاک کی بے حرمتی کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا جس کے بعد مسلمانوں کو قرآن پاک کے شہید صفحات جمع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ہجوم کے درمیان فائر فائٹر والے ملبوسات پہنے گروپ نے ’نفرت ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔سویڈن میں قرآن پاک کی بیحرمتی کا چند ہفتوں کے دوران یہ دوسرا واقعہ ہے۔ رواں سال عید الاضحیٰ کے موقع ملعون شخص نے قرآن پاک کی بیحرمتی کی تھی۔