ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کا تلنگانہ کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ اجلاس

   

کانگریس اور بی جے پی کی شرکت، پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے مسائل پیش کرنے توجہ دہانی
حیدرآباد 27 نومبر (سیاست نیوز) پارلیمنٹ سیشن کا یکم ڈسمبر سے آغاز ہورہا ہے، ایسے میں تلنگانہ کے زیرالتواء مسائل کو دونوں ایوانوں میں مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لئے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے تمام پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا۔ پرجا بھون میں منعقدہ اجلاس میں کانگریس کے ارکان ڈاکٹر ملو روی، بلرام نائک، سریش شیٹکر، سی ایچ کرن کمار ریڈی، آر رگھورام ریڈی، کڈیم کاویا، جی ومشی، انیل کمار یادو کے علاوہ بی جے پی ارکان رگھونندن راؤ اور جی نگیش نے شرکت کی۔ بی آر ایس کے کسی بھی رکن پارلیمنٹ نے شرکت نہیں کی۔ چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ اور دیگر اعلیٰ عہدیدار اجلاس میں شریک تھے۔ بھٹی وکرامارکا نے 12 مختلف محکمہ جات سے متعلق 47 اُمور پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ تلنگانہ کے زیرالتواء اُمور کی وضاحت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مؤثر انداز میں آواز اُٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت کو تلنگانہ کے پراجکٹس کی منظوری اور فنڈس کی اجرائی کے لئے دباؤ بنایا جائے۔ اُنھوں نے زیرالتواء اُمور کے بارے میں تفصیلی نوٹ ارکان کے حوالے کیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ شہر کی ترقی سے متعلق کئی اہم پراجکٹس کو مرکزسے منظوری کا انتظار ہے جن میں آؤٹر رنگ روڈ، میٹرو ریل فیز II اور موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ شامل ہیں۔ اُنھوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کی بنیاد پر ایوان میں خصوصی تذکرہ کے تحت مسائل پیش کریں۔ وقفہ سوالات میں بھی تلنگانہ کے مسائل کو پیش کیا جاسکتا ہے۔1