’ڈگری سے کچھ نہیں ہوگا، پنکچر کی دکان کھول کر زندگی گزارو‘

   

مدھیہ پردیش میں بی جے پی رکن اسمبلی پنّالال شاکیہ کا حیرت انگیز بیان
بھوپال :مدھیہ پردیش کے گْنا سے بی جے پی رکن اسمبلی پنّالال شاکیہ نے ایک متنازعہ بیان دے کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کالج کی ڈگری سے کچھ ہونے والا نہیں ہے، موٹر سائیکل کی پنکچر ٹھیک کرنے والی دکان کھول کر لوگوں کو اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔ اس دکان سے کم از کم اپنا گزارہ تو چلتا رہے گا۔دراصل پنّالال شاکیہ نے یہ بیان تب دیا جب وہ ’وزیر اعظم کالج آف ایکسیلنس‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر توانائی پردیومن سنگھ ومر نے فیتہ کاٹ کر پی ایم کالج آف ایکسیلنس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر شاکیہ نے کہا کہ میں جو بات کہوں گا وہ سائنس اور ریاضی کے فارمولے سے کہوں گا۔ سمجھ لینا کہ یہ جو یونیورسٹی ہے، تعلیمی ادارے ہیں، یہ کوئی کمپریسر ہاؤس نہیں ہے۔ اس میں ڈگری کے حساب سے ہوا بھر دی جائے اور وہ سرٹیفکیٹ لے کر چلا جائے۔ درحقیقت تعلیمی ادارے وہ ہوتے ہیں جن کے ’ڈھائی اکشر‘ (ڈھائی حروف) پڑھے سو پنڈت ہوئے، پوتی پڑھ پڑھ جگموا پنڈت بھیا نہ کوئے۔‘‘اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اس ’پنچ تتو‘ (پانچ عناصر) کو بچانے کی پوری کوشش کرنی ہوگی جس سے ہم سب کا جسم بنا ہے۔ یعنی ہوا، پانی، آگ، آسمان اور زمین۔ آج ماحولیات کو لے کر پورے ہندوستان میں فکر ہے۔ پانی کے لیے پورے ہندوستان میں فکر ہے۔ آلودگی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے، اس سے بھی سبھی لوگ فکرمند ہیں۔ غیر قانونی طریقے سے ندی نالے سب پر قبضہ ہو گیا ہے۔اپنی اس تقریر کے دوران بی جے پی رکن اسمبلی نے کہا کہ وزیر اعظم کالج آف ایکسیلنس یونیورسٹی کا ہم افتتاح کر رہے ہیں لیکن میری آپ سے گزارش ہے کہ صرف ایک جملہ پر دھیان دینا۔ یہ کالج کی ڈگری سے کچھ ہونے والا نہیں ہے، موٹر سائیکل کی پنکچر بنانے والی دکان کھول لینا۔ جس سے کم از کم اپنا گزارہ چلتا رہے۔