حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) کہیں بھی جائیں گاؤں یا شہر، بس اسٹانڈ اور ریلوے اسٹیشن ہر جگہ بھکاری بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ چلر رہنے پر لوگ بھیک دیتے ہیں یا پھر نہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بہار کا ایک 40 سالہ گداگر راجو پٹیل بچپن سے بنیا ریلوے اسٹیشن پر بھیک مانگ رہا ہے مگر عوام کی جانب سے بھیک دینے کیلئے چلر نہ ہونے کا بہانہ کرنے پر راجو پٹیل اپنے اسمارٹ فون میں ڈیجیٹل ویالٹس کا استعمال کررہا ہے۔ جب بھی وہ عوام سے بھینک مانگتا ہے اور عوام کی جانب سے چلر نہ ہونے کا عذر پیش کرنے پر کیو آر کوڈ کے ذریعہ ڈیجیٹل بھیک دینے کی اپیل کررہا ہے اور عوام بھی اس بھکاری کو آن لائن کے ذریعہ بھیک دے رہے ہیں۔ جب راجو پٹیل سے اس نئے انداز میں بھیک مانگنے کے آئیڈیا کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ چلر نہ ہونے کی وجہ سے اسے بھیک نہیں مل رہی تھی اور وہ بھوکا سونے پر مجبور تھا۔ آن لائن بھیک سے اس کو وقت پر کھانا مل رہا ہے اور وہ ریلوے پلیٹ فارم پر سکون کی نیند سورہا ہے۔ آن لائن بھیک نے اس کو جینے کی ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ ن