عوام کو ٹھگنے کئی ایپس عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اسمارٹ فونس رکھنے والوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت
حیدرآباد /13 اگست ( سیاست نیوز) شہری علاقوں کے علاوہ اب دیہی علاقوں میں بھی ڈیجیٹل لین دین عام ہوگیا ۔ چلر ادائیگی ‘ بڑے شاپنگ مالس یا کرانہ دوکانات اور ہوٹلوں میں بھی ڈیجیٹل ادائیگی آسان بن گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ترکاری اور میوہ فروش تاجر بھی ڈیجیٹل لین دین کو اہمیت دینے لگے ہیں ۔ انٹرنیٹ کی ہر دہلیز تک رسائی اور ہر گھر اور ہر شہری کی جانب سے انٹرنیٹ کا استعمال عام ہوگیا ہے تاہم آن لائین لین دین اور ڈیجیٹل ادائیگی کے بڑھتے رحجان کا فائدہ کم اور نقصانات زیادہ دکھائی دے رہے ہیں ۔ جس کا نتیجہ سائبر دھوکہ بازوں کی چاندی ہے ۔ بازار میں پاکٹ ماروں اور رہزنوں سے زیادہ اب سائبر دھوکہ بازوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ ڈیجیٹل ادائیگی اب سماج کی ایک ضرورت اور لازمی حصہ بن گیا ہے ۔ ایسے دور میں سائبر دھوکہ سازوں سے بچنے شعور بیداری پر جہاں زور دیا جارہا ہے تو وہیں دوسری طرف رہنمانہ خطوط اور اشورے جاری کئے جارہے ہیں ۔ ڈیجیٹل لین دین کے دوران دھوکہ باز اپلیکیشن سے بچنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے جو اسمارٹ فونس میں بن بلائے مہمان کی طرح نمودار ہوجاتا ہے ۔ شہری بہ آسانی سائبر دھکہ بازوں کی دھوکہ دہی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ شہریوں کو چاہئے کہ وہ کسی بھی اپلیکیشن کو انسٹال کرنے یا پھر ڈاؤن لوڈ کرنے سے قبل اس کی جانچ کرلیں اور کسی بھی انجان اپلیکیشن پر اپنی تفصیلات کو درج نہ کریں جو سائبر دھوکہ بازوں کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ بینکس سے متعلق اپلیکیشن بھی جو بظاہر بنکس کے نام سے موجد ہیں ان کی جانچ کرلیں ۔ متعلقہ بنک سے رابطہ قائم کریں ۔ ایسا نہ کریں کہ فوری اس پر ردعمل ظاہر کریں ۔ چونکہ محنت سے کمائی ہوئی دولت کو بچانے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ۔ بھلا ہی دیر کیوں نہ ہوں بنک سے رابطہ تک بنک پہونچکر جانچ کرنے تک کسی بھی بنک اپلیکیشن پر توجہ نہ دیں ۔ سائبر دھوکہ باز آپ کی اطلاع لین دین ۔ بنک اکاونٹس اور کریڈیٹ کارڈ سے آگاہ ہوسکتے ہیں ۔ لہذا انتہائی چوکنا رہتے ہوئے احتیاط سے جدید تقاضوں کو پورا کریں ۔ ایسا نہیں کہ انٹرنیٹ پر دستیاب تمام اپلیکیشن فرضی اور نقلی ہیں لیکن اصل کی شکل میں نقلی اور فرصی اپلیکیشن کے ذریعہ سائبر دھوکہ باز آپ تک پہونچتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انتہائی اہم یہ بات ہے کہ کسی بھی بنک کی جانب سے کس گاہک سے KYC کی تفصیلات حاصل کرنے فون پر رابطہ پیدا نہیں کیا جاتا ۔ اگر کوئی KYC کے متعلق خود کو بنک ملازم یا منیجر ظاہر کرکے تفصیلات حاصل کرتا ہے تو سمجھ جانا چاہئے کہ وہ دھوکہ باز ہے اور ہر بنک کی جانب سے اپنی ذاتی اپلیکیشن فراہم کی جارہی ہے ۔ جس میں تمام تر سہوالیات اور خدمات کو دستیاب رکھا گیا ہے اور متعلقہ بنک کے اپلیکشن ہی کو استعمال کرنا فائدہ مند اور محفوظ ہوگا ۔