ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی و سیس میں فوری اضافہ ‘ مرکزی حکومت کا فیصلہ

,

   

نئی دہلی 11 اپریل (یو این آئی) وزارت فینانس نے آج ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیوٹیز اور سیس میں کئی ترامیم کا اعلان کیا ہے ، جس کیلئے متعدد نوٹیفکیشنز جاری کیے گئے ہیں جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ 11 اپریل کے سرکاری نوٹیفکیشنز کے مطابق، حکومت نے فینانس ایکٹ 2002 کی دفعات کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا ہے ۔ نئی شرح 24 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے ، جو آٹھویں شیڈول میں سابقہ اندراج کی جگہ لے گی۔ کہا گیا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ مرکز کو اطمینان تھا کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی وجہ سے فوری کارروائی ضروری ہوگئی ہے ۔ ایک متوازی اقدام میں، حکومت نے فینانس ایکٹ 2018 کے تحت ڈیزل پر روڈ اینڈ انفراسٹرکچر سیس میں بھی اضافہ کیا ہے ۔ اس کی نظر ثانی شدہ شرح 36 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے ، جس کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بھی موجودہ حالات کے پیش نظر فوری کارروائی کی ضرورت کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ مزید برآں، 26 مارچ 2026 کو جاری سابقہ نوٹیفکیشنز میں بھی ترامیم کی گئی ہیں، جن کے ذریعے متعدد شیڈولز میں ڈیوٹی سے متعلق اندراجات کو بدلا گیا ۔ ان تبدیلیوں میں موجودہ ایکسائز اعلامیہ میں مخصوص نرخوں کی جگہ 24 روپے فی لیٹر، 42 روپے فی لیٹر، اور 31.5 روپے فی لیٹر جیسے اپ ڈیٹ شدہ اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں۔ یہ تمام نوٹیفکیشنز محکمہ مال کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ ہر نوٹیفکیشن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ ترامیم عوامی مفادمیں کی جا رہی ہیں اور اشاعت کے ساتھ ہی نافذ العمل ہو جائیں گی۔ یہ تبدیلیاں ایندھن پر ٹیکس کے ڈھانچے کو متوازن رکھنے کی مرکزی حکومت کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو سرکاری ریونیو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور افراطِ زر، نقل و حمل کے اخراجات اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں ۔ پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی اور سیس میں ایڈجسٹمنٹ کو حکومت اکثر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کے رجحان اور ملکی معاشی حالات کے مطابق مالی ترجیحات کو متوازن کرنے استعمال کرتی ہے ۔ فوری نفاذ حکومت کے اس ارادے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ڈیزل پر ڈیوٹی کے نئے ڈھانچے کو تیزی سے لاگو کرنا چاہتی ہے ، کیونکہ ڈیزل ایک کلیدی ایندھن ہے جو ملک بھر میں لاجسٹکس، زراعت اور صنعتی سرگرمیوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔