چیف سکریٹری اور عہدیداروں پر ہائی کورٹ کی برہمی، عہدیداروں کی جیب سے معاوضہ ادا کرنے کا انتباہ
موسیٰ ندی کا معائنہ کرنے اور اعلی سطحی کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت
حیدرآباد۔ 24 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست میں وبائی امراض سے نمٹنے میں ناکامی پر ہائی کورٹ نے پھر ایک مرتبہ اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس آر ایس چوہان کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ کی ہدایت پر چیف سکریٹری ایس کے جوشی، پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار، کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار، ڈائرکٹر ہیلتھ رمیش ریڈی اور نیلوفر ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شنکر آج عدالت میں حاضر ہوئے۔ عدالت نے ڈینگو اور وبائی امراض کی روک تھام میں حکومت کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے وبائی امراض کی روک تھام کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کی تفصیلات بیان کرنے کے لیے عہدیداروں کو طلب کیا تھا۔ چیف سکریٹری نے حکومت کے اقدامات کی تفصیلات پیش کی جس پر ہائی کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ڈینگو کے انسداد کے لیے حکومت کے اقدامات برائے نام ہیں۔ عہدیداروں کی جانب سے کئے جارہے اقدامات صرف کاغذ پر دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ ریمارکس کرتے ہوئے عدالت نے اپنی براہمی ظاہر کی۔ علاقائی سطح پر صورتحال بہتر نہیں ہے۔ اگر ڈینگو کا انسداد آپ نہیں کرسکتے تو پھر مرنے والے افراد کے خاندانوں کو فی کس 50 لاکھ روپئے ایکس گریشیا ادا کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ عوامی بھلائی اور بہبود کی ذمہ داری حکومت اور عہدیداروں پر ہے۔ اگر صورتحال بہتر ہوتی تو عوام عدالت سے رجوع کیوں ہوتے۔ عدالت نے ریمارک کیا کہ اگر اعلی عہدیدار موسیٰ ندی کا معائنہ کریں تو انہیں حقیقی صورتحال کا پتہ چل جائے گا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں 427 مقامات پر مچھروں کی کثرت پائی گئی ہے۔ مچھروں کے انسداد کے لیے 30 دن کا صحت و صفائی کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایس عہدیدار اخبارات کا مطالعہ تک نہیں کرتے۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ اپنے آپ کو ملک کا شہری تصور نہیں کرتے؟ آئی اے ایس بننے کے لیے بھاری رقومات خرچ کیا اسی لیے کی جاتی ہیں کہ اس طرح کا کام کریں؟ مسائل در مسائل آئیں اور عدالت خاموش نہیں رہے گی۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ سے از خود مقدمات کو قبول کیا جائے گا۔ فاضل ججس نے ریمارک کیا کہ آئی اے ایس عہدیدار کم از کم اخبارات کا مطالعہ تک نہیں کرتے۔ اخبارات میں ہر صفحہ پر عوامی مسائل سے متعلق خبریں شائع ہوتی ہیں۔ عدالت نے انتباہ دیا کہ اگر عہدیداروں کی لاپرواہی کا سلسلہ جاری رہے گا تو ان کی جیب سے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ عدالت نے کہا کہ ڈینگو کے انسداد کے سلسلہ میں بار بار ہدایات دیئے جانے کے باوجود عہدیداروں کا رویہ افسوسناک ہے۔ حکومت کی جانب سے وبائی امراض کی روک تھام سے متعلق وضاحت پر عدالت نے پوچھا کہ اگر واقعی اقدامات کئے جارہے ہیں تو جنوری میں 85 ڈینگو کے کیسس کس طرح اکٹوبر میں بڑھ کر 3800 تک پہنچ گئے؟ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ سے متصل موسیٰ ندی میں مچھروں کی کثرت ہے جس کا عہدیداروں کو جائزہ لینا چاہئے۔ عدالت نے چیف سکریٹری کی قیادت میں اعلی سطحی کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت جاری کی۔ عدالت نے کہا کہ مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے جنگی خطوط پر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ اس سلسلہ میں ایک ہزار مشینیں خریدنے کی ہدایت دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ حکومت کو فوری درکار بجٹ منظور کرنا چاہئے۔ عدالت نے کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ ہر جمعرات کو ہائی کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ ڈینگو کی روک تھام میں اگر حکومت ناکام رہتی ہے تو ڈینگو سے مرنے والے افراد کے خاندانوں کو فی کس 50 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنا پڑسکتا ہے۔ چیف سکریٹری اور دیگر عہدیداروں کو موسیٰ ندی کا معائنہ کرتے ہوئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت نومبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کی گئی۔ ڈینگو کے انسداد سے متعلق وضاحت کے دوران عدالت نے آئی اے ایس عہدیداروں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے ٹریننگ دے کر آئی اے ایس بنایا جاتا ہے اور آپ عام شہریوں کی کیا خدمت کررہے ہیں۔ کیا تلنگانہ کے آئی اے ایس اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ عدالت نے انتباہ دیا کہ اگر اس کی ہدایات کو نظرانداز کیا گیا تو آئی اے ایس عہدیداروں کے خلاف ازخود مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اسی طرح مرنے والے خاندانوں کو آئی اے ایس عہدیدار اپنے اکائونٹ سے فی کس 5 لاکھ روپئے ادا کرنے پڑیںگے۔ عدالت کی برہمی پر چیف سکریٹری سمیت دیگر عہدیدار ساکت اور خاموش بیٹھے رہے۔ حکومت کی جانب سے جب 30 روزہ صحت و صفائی کے پروگرام کا حوالہ دیا گیا تو عدالت نے پوچھا آپ نے ان 30 دنوں میں کونسا کارنامہ انجام دیا جبکہ ڈینگو کے واقعات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔