ورنگل : صدر انٹلکچول فورم ورنگل ڈاکٹر انیس احمد صدیقی نے کہاکہ شہر ورنگل اپنے آپ میں ایک تاریخی ورثہ کا حامل ہے ایک عرصہ دراز تک کاکتیائوں نے یہاں پر حکومت اور پھر دہلی کے سلطانوں کی عمل داری میں آتا گیا اور پھر چار سو سالوں تک آصفیہ دور حکومت کا حصہ بن گیا۔ کاکتیہ اور آصفیہ دور حکومت میں اسے کافی ترقی ملی اور پھر معاشی ،ثقافتی ،ادبی لحاظ سے حیدر آباد کے بعد دوسرا بڑے شہر کی طرح ابھر کر آیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اردو کو ساری ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ۔جس کی بناء پر ورنگل کے اردو داں طبقہ کے درمیان ایک مسرت دوڑ رہی ہے لیکن جب عملی طور پر نفاذ کی بات آتی ہے تب یہ مسرت کی لہر معدوم ہوتی نظر آتی ہے ۔کیونکہ کسی بھی محکمہ میں اردو کا چلن ناپائیدار ہوتا جارہا ہے اور یہاں تک کہ مختلف سرکاری دفاتر کے بورڈس پر سے بھی اردو غائب ہوتی جارہی ہے حالانکہ قاضی پیٹھ ریلوے اسٹیشن کو جنوبی ہند کا باب الداخلہ مانا جاتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر جو مختلف زبانوں میں اسٹیشن کا نام تحریر کیا گیا ہے اس میں اردو کی تحریر املا کے اعتبار سے اور تلفظ کے اعتبار سے ایک انتہائی فاش غلطی ( قاضی پیٹھ کی جگہ کاز پیٹ تحریر کیا گیا )مرتکب نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر انیس احمد صدیقی چیرمین انٹلکچول فورم ورنگل کی قیادت میں جن میں مسعود مرزا محشر ،شیخ حمید احمد ،محمد ندیم بیگ ،نوید احمد اور دیگر شامل ہیں نے قاضی پیٹھ اسٹیشن کے منیجر کو نام کی تصیح کے لئے ایک یادداشت پیش کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ ڈویژنل منیجر سکندر آباد کو بھی یاداشت روانہ کیا گیا ہے ۔انہوںنے اردو داں طبقہ اور اردو کی ترویج سے متعلق انجمنوں کے ذمہ داروں سے خواہش کی ہے کہ دیگر تمام حکومتی اداروں کے سائن بورڈس پر اردو کے لئے مہم کا آغاز کیا جائے ۔
