حیدرآباد۔ٹاملناڈو کی اہم اپوزیشن ڈی ایم کے نے مقامی مسلم جماعتوں کے دباؤ میں اقلیتی کانفرنس میں صدر مجلس اسد اویسی کو روانہ دعوت نامہ سے دستبرداری اختیار کرلی۔ ڈی ایم اقلیتی شعبہ کے قائدین نے حیدرآباد پہنچ کر اسد اویسی کو شرکت کی دعوت دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی ایم کے کی حلیف مسلم جماعتوں و مقامی مسلم تنظیموں نے صدر مجلس کو مدعو کرنے کی مخالفت کی۔ ڈی ایم کے میناریٹی سکریٹری مستان اور دیگر نے حیدرآباد پہنچ کر دعوت نامہ حوالہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے کی حلیف انڈین یونین مسلم لیگ اور ایم ایم کے نے صدر مجلس کو مدعو کرنے کی مخالفت کی۔ اطلاعات کے مطابق ڈی ایم کے نے سینئر قائد کے ذریعہ اسد اویسی کو ان وجوہات سے واقف کرایا جس کے تحت اسے فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔ ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والے مسلم گروپس اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹاملناڈو میں مجلس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ 2016 میں مجلس نے 2 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کیا تھا۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر ڈی ایم کے مجلس کو مدعو کرتے ہوئے بی جے پی کو موقع فراہم کرنا نہیں چاہتی۔
