ڈی جی پی آفس کے روبرو مہیلا کانگریس کارکنوں کا دھرنا

   

خاتون دلت ایس آئی کے ساتھ بدسلوکی کا الزام، وزیر داخلہ کو یادداشت پیش
حیدرآباد۔ /3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) مہیلا کانگریس کی جانب سے آج ڈائرکٹر جنرل پولیس دفتر کے روبرو دھرنا منظم کیا گیا۔ صدر مہیلا کانگریس سنیتا راؤ کی قیادت میں مہیلا کارکنوں نے ورنگل کمشنریٹ کے سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے ایک دلت ٹرینی خاتون سب انسپکٹر کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ مہیلا کارکنوں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی سے ملاقات کرکے یادداشت پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔ ڈی جی پی آفس کے روبرو اچانک احتجاج سے وہاں متعین پولیس ملازمین نے زائد فورس کو طلب کرلیا۔ احتجاجی خواتین دلت سب انسپکٹر کو انصاف کی فراہمی کیلئے نعرے لگارہے تھے۔ بعد میں انہیں ڈی جی پی آفس میں داخلہ کی اجازت دی گئی جہاں انہوں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس کے دفتر میں یادداشت پیش کی۔ بعد میں مہیلا کانگریس قائدین نے وزیر داخلہ محمد محمود علی سے ملاقات کی اور یادداشت حوالے کی۔ وزیر داخلہ کو بتایا گیا کہ تلنگانہ میں دلت طبقہ سے مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل میں پیش آئے واقعہ کے ذمہ دار سب انسپکٹر کو فوری معطل کیا جائے جس نے خواتین کے خلاف اہانت آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔ سنیتا راؤ نے کہاکہ تلنگانہ میں خواتین اور دلتوں پر مظالم کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہوا ہے۔ بھونگیر میں دلت خاتون کی لاک اَپ ڈیتھ میں حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے مہیلا قائدین کو تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں متعلقہ اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے ضروری کارروائی کی ہدایت دیں گے۔ وزیر داخلہ کے تیقن پر مہیلا کانگریس قائدین نے احتجاج ختم کردیا۔