ڈی جی پی تقرر معاملہ میں تلنگانہ اور اے پی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

   

سپریم کورٹ کے احکامات ، اہم عہدوں پر تقررات کا اختیار حکومت کو ہونا چاہئے
حیدرآباد ۔13 ۔ مارچ (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ایسی ریاستیں جہاں ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کے سلسلہ میں علحدہ قانون موجود ہے، وہ اپنے قانون کے مطابق عمل کریں گی جبکہ دیگر ریاستوں کو سپریم کورٹ کی جاری کردہ گائیڈ لائینس پر عمل کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس سوریا کانت ، جسٹس جے باگچی اور جسٹس ویپل پنچولی پر مشتمل بنچ نے بہار ، آندھراپردیش اور تلنگانہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کو ختم کردیا کیونکہ تینوں ریاستوں میں ڈائرکٹر جنرل پولیس کے تقرر کیلئے یونین پبلک سرویس کمیشن کو تجاویز روانہ کی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا موقف واضح رہے کہ ایسی ریاستیں جہاں قانون سازی کی گئی ہے، وہاں پر اپنے قانون کے مطابق عمل کیا جائے جبکہ جن ریاستوں میں علحدہ قانون موجود نہیں، وہاں ڈی جی پی کے تقرر پر سپریم کورٹ کی گائیڈ لائینس پر عمل کیا جائے۔ جھارکھنڈ اور اترپردیش میں ڈی جی پی کے تقرر کے لئے قانون سازی کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائینس کے تحت ڈی جی پی کے تقرر کیلئے ریاستی حکومتوں کو سینئر آئی پی ایس عہدیداروں کے نام یونین پبلک سرویس کمیشن کو روانہ کرنے ہوں گے اور کمیشن تین عہدیداروں کے ناموں کا پیانل ریاست کو روانہ کرے گا۔ جن میں سے کسی ایک کا ڈی جی پی کے عہدہ پر تقرر کیا جاسکتا ہے۔ جھارکھنڈ حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریاستی سطح پر کی گئی قانون سازی کے مطابق ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں ایک کمیٹی ڈی جی پی کا تقرر کرتی ہے۔ مغربی بنگال حکومت کے وکیل نے کہا کہ یونین پبلک سرویس کمیشن کو عہدیداروں کی فہرست رانہ کی گئی ہے۔ اس مرحلہ پر چیف جسٹس سوریا کانت نے ازراہ مذاق ریمارک کیا کہ مغربی بنگال کو اس بات میں زیادہ دلچسپی ہے کہ ڈائرکٹر جنرل پولیس کو راجیہ سبھا روانہ کیا جائے ۔ اب جبکہ راجیہ سبھا میں کوئی گنجئش نہیں ہے ، لہذا امید کی جاسکتی ہے کہ مغربی بنگال میں ایک مستحکم ڈی جی پی رہیں گے۔ واضح رہے کہ ترنمول کانگریس حکومت نے حال ہی میں سابق ڈی جی پی راجیو کمار کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیا ہے۔ عدالت سے تعاون کیلئے مقرر کردہ سینئر ایڈوکیٹ راجیو رامچندرن نے کہا کہ ڈی جی پی ، چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری جیسے عہدوں پر تقرر کا اختیار حکومت کو ہونا چاہئے نہ کہ کسی پیانل کو۔ حکومت کو اپنے اعتماد کے کسی عہدیدار کے تقرر کا اختیار دیا جائے جو بہتر حکمرانی میں مدد کریں۔ چیف جسٹس نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور چھتیس گڑھ اور جھار کھنلات حکومتوں کو اس سلسلہ میں اندرون دو ہفتے موقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد تلنگانہ حکومت نے یونین پبلک سرویس کمیشن کو سینئر موسٹ آئی پی ایس عہدیداروں کی فہرست روانہ کی ہے۔ کمیشن نے تین ناموں کا پیانل حکومت کو روانہ کیا تاکہ کسی ایک کا ڈی جی پی کے عہدہ پر تقرر کیا جاسکے۔1