ڈی سرینواس کی بی جے پی میں شمولیت کی قیاس آرائیاں تیز

   

امیت شاہ سے ملاقات کے بعد ٹی آر ایس حلقوں میں ناراضگی، پارلیمانی پارٹی اجلاس سے غیر حاضر
حیدرآباد۔/12 جولائی، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس کی بی جے پی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات گشت کرنے لگی ہیں۔ ڈی سرینواس جو طویل عرصہ سے ٹی آر ایس کی سرگرمیوں سے دور ہوچکے ہیں انہوں نے نئی دہلی میں امیت شاہ سے ملاقات کی اور تازہ ترین سیاسی صورتحال پر بات چیت کی۔ ڈی سرینواس بی جے پی میں شمولیت کے بغیر ہی نئی دہلی میں سینئر قائدین سے ملاقات کررہے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں بھی کئی قائدین سے ملاقات کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی سرینواس نے کہا کہ وہ کے سی آر سے جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں پارٹی میں نظرانداز کئے جانے کی وجوہات کیا ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں پردیش کانگریس کے صدر کے عہدہ پر فائز رہے ڈی سرینواس ٹی آر ایس۔ کانگریس انتخابی مفاہمت میں اہم رول ادا کرچکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس قائدین نے ڈی سرینواس کے خلاف مخالف پارٹی سرگرمیوں پر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کے سی آر سے نمائندگی کی۔ ڈی سرینواس نے چیلنج کیا کہ مخالف پارٹی سرگرمیوں کا ثبوت پیش کیا جائے۔ کے سی آر بھی ان کے خلاف تادیبی کارروائی سے گریز کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں ڈی سرینواس نے اپنے فرزند ڈی اروند کی کامیابی میں تعاون کیا تھا۔ ڈی اروند کے پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہونے کے بعد ڈی سرینواس کی شمولیت کی افواہیں گرم ہوگئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی تلنگانہ میں قدم جمانے کیلئے کانگریس اور ٹی آر ایس کے سینئر قائدین پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ اسی دوران ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر کیشو راؤ نے ڈی سرینواس کی امیت شاہ سے ملاقات پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سرینواس کسی بھی طرح معطل کئے جانے کا انتظار کررہے ہیں تاکہ بی جے پی کی راجیہ سبھا میں تائید کی جاسکے۔ انہوں نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ڈی سرینواس کی شرکت کی تردید کی۔