ڈی ناگیندر اور کڈیم سری ہری کو اسپیکر اسمبلی نے کلین چٹ دے دی

   

بی آر ایس کے الزامات مسترد، تمام 10 منحرف ارکان بری ، سپریم کورٹ میں آج سماعت

حیدرآباد ۔11 ۔ مارچ (سیاست نیوز) اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی جی پرساد کمار نے توقع کے عین مطابق ارکان اسمبلی ڈی ناگیندر اور کڈیم سری ہری کو انحراف کے الزامات میں کلین چٹ دیتے ہوئے بی آر ایس کی جانب سے داخل کی گئی درخواستوں کو مسترد کردیا ۔ اسپیکر پرساد کمار نے آج صبح اپنا فیصلہ سنایا اور دونوں ارکان اسمبلی کے خلاف انحراف کے الزامات سے متعلق ٹھوس ثبوت پیش نہ ہونے پر دونوں کو کلین چٹ دے دی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اندرون تین ماہ منحرف ارکان کے خلاف شکایتوںکی یکسوئی کی ہدایت کے بعد اسپیکر نے تین مراحل میں 10 ارکان اسمبلی کے خلاف الزامات کی سماعت کی اور تمام کو کلین چٹ دے دی ۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت سے عین قبل اسپیکر نے ڈی ناگیندر اور کڈیم سری ہری کے بارے میں اپنا فیصلہ سنایا۔ بی آر ایس نے الزام عائد کیا تھا کہ پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب 10 ارکان اسمبلی نے کانگریس میں انحراف کیا ، لہذا انہیں انسداد انحراف قانون کے تحت اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی کل 12 مارچ کو سماعت مقرر ہے اور سپریم کورٹ کی ناراضگی سے بچنے کیلئے اسپیکر نے اپنا فیصلہ سنادیا۔ اسپیکر نے تمام 10 ارکان اسمبلی کے خلاف الزامات کی نہ صرف سماعت کی بلکہ فریقین کے وکلاء کو دلائل پیش کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ یوں تو بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی نے کانگریس سے قربت اختیار کرلی لیکن اسمبلی کے ریکارڈ میں انہیں بی آر ایس رکن کے طور پر شامل رکھا گیا ہے ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی اے گاندھی کو اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیا گیا جس پر بی آر ایس نے اعتراض جتایا ۔ خیریت آباد کے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر نے کانگریس کے ٹکٹ پر سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کیا تھا جبکہ کڈیم سری ہری نے ورنگل لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والی اپنی دختر کڈیم کاویا کی انتخابی مہم چلائی تھی ۔ بی آر ایس کی جانب سے اس بارے میں دلائل اور ٹھوس ثبوت پیش کئے گئے لیکن اسپیکر نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اسپیکر کے فیصلہ کے خلاف بی آر ایس نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ اسپیکر نے دو مراحل میں جن 8 منحرف ارکان کو کلین چٹ دی ہے ، ان میں ٹی وینکٹ راؤ ، پوچارم سرینواس ریڈی ، کے یادیا، سنجے کمار ، بی کرشنا موہن ریڈی ، اے گاندھی ، جی مہیپال ریڈی اور پرکاش گوڑ شامل ہیں۔ سماعت کے دوران اسپیکر کا موقف رہا کہ درخواست گزاروں نے ارکان اسمبلی کے خلاف انحراف کے حق میں ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسپیکر نے اگرچہ منحرف ارکان کو کلین چٹ دے دی ہے تاہم سپریم کورٹ میں اس مسئلہ پر فیصلہ ابھی باقی ہے۔1