ڈی ناگیندر کو کلین چٹ، عوامی فیصلے کی توہین : کے ٹی آر

   

اسپیکر کا فیصلہ جمہوریت پر حملہ، دستور کا قتل، انحراف کی حوصلہ افزائی کے مترادف

حیدرآباد۔ 11 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے تلنگانہ کے اسپیکر جی پرساد کی جانب سے پارٹی سے انحراف کے معاملے میں ارکان اسمبلی ڈی ناگیندر اور کڈیم سری ہری کو کلین چٹ دینے کے فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو جمہوریت پر کھلا حملہ اور عوام کے فیصلے کی توہین قرار دیا۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے طنزیہ ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر اسپیکر اسمبلی اور لوک سبھا میں کانگریس کے قائد اپوزیشن راہول کو تہنیت پیش کرنے کا دل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ناگیندر کے معاملے میں کسی تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بچہ بچہ جانتا ہے۔ ڈی ناگیندر نے 2023 میں بی آر ایس کے بی فارم پر اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے بی فارم پر مقابلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس تمام تفصیلات موجود ہے۔ بی آر ایس کے ایم ایل اے رہتے ہوئے کانگریس کے بی فارم پر لوک سبھا کا انتخاب لڑنے والے ڈی ناگیندر کو کلین چٹ دینا عوامی فیصلے کی توہین ہے۔ اسپیکر کی جانب سے کیا گیا فیصلہ پارٹی انحراف کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے اور جمہوریت کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انحراف کے معاملے میں کلین چٹ دینا دستوری نظام کو اقتدار میں رہنے والوں کے حق میں استعمال کرنے کی ایک مثال ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ عوام کے ووٹوں سے جیتنے والے نمائندے ذاتی مفادات کے لئے عہدوں کا تبادلہ کریں اور اسپیکر اس پر منظوری کی مہر لگادیں تو جمہوری اقدار کہاں برقرار رہ جائیں گے۔ ایسے فیصلے عوام کے اعتماد پر کاری ضرب ہیں اور اس سے جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔ کے ٹی آر نے کانگریس کے قائد راہول گاندھی کو جوکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دستور بچاؤ کا نعرہ دیا جارہا ہے۔ دوسری طرف تلنگانہ میں دستور کا قتل کیا جارہا ہے۔ 2