لندن گلیمورگن سیکنڈ الیون کے سابق کھلاڑی محسن عارف نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران اپنے دور میں نسل پرستی کا شکار ہونے کا انکشاف کیاہے اورکہا ہے کہ وہ بھی بدترین وقت سے گزرے ہیں۔ عارف نے کاؤنٹی پر ادارہ جاتی نسل پرستی کا بھی الزام عائد کیا ہے ۔ عارف کا ٹیلی گراف کو یہ انٹرویو یارکشائر کے آف اسپنر عظیم رفیق کے بیان کردہ جذبات کا تسلسل بھی ہے جو انہوں نے ایک ماہ قبل ظاہر کئے تھے ۔36 سالہ عارف حسین نے کہا کہ انہیں2005 میں دوران کھیل نسل پرستانہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔عارف کے مطابق ایک مخالف کھلاڑی جس کا اس وقت گلیمورگن سے معاہدہ تھا اس نے عارف پربرستے ہوئے نسل پرستانہ جملے کہے تھے ۔ عارف نے اس وقت واقعہ کی اطلاع گلیمورگن کو نہیں دی تھی ۔ عارف نے یہ بھی الزام لگایا کہ کاؤنٹی میں ادارہ جاتی نسل پرستی کا مظاہرہ کیا گیا ، ایشیائی نژاد کھلاڑی کو یقینی طور پرکوئی مدد نہیں تھی۔